کرد جنگجوؤں کے خلاف ترک فوجی آپریشن کو پارلیمانی تحفظ مل گیا | حالات حاضرہ | DW | 24.06.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کرد جنگجوؤں کے خلاف ترک فوجی آپریشن کو پارلیمانی تحفظ مل گیا

ترک پارلیمان نے کرد عسکریت پسندوں کے خلاف لڑائی میں مصروف ملکی فوجی دستوں کے لیے ان کے خلاف کسی بھی ممکنہ قانونی کارروائی سے تحفظ کی منظوری دے دی ہے۔ تاحال جاری اس لڑائی میں گزشتہ برس ہزاروں افراد مارے گئے تھے۔

Türkei Diyarbakir Militäroffensive gegen Kurden

جنوب مغربی ترکی میں کرد اکثریتی آبادی والے متعدد علاقوں میں ملکی سکیورٹی دستے اب تک کئی بار وسیع تر آپریشن کر چکے ہیں

ترک دارالحکومت انقرہ سے جمعہ چوبیس جون کو ملنے والی نیوز ایجنسی روئٹرز کی رپورٹوں کے مطابق ترک پارلیمان نے ملکی فوج کے کرد عسکریت پسندوں کے خلاف مسلح لڑائی میں مصروف ارکان کو ان کے خلاف اس آپریشن کے حوالے سے کسی بھی قسم کی عدالتی کارروائی سے تحفظ دینے کا فیصلہ اس لیے کیا کہ ’دہشت گردی کے خلاف ترکی کی جنگ‘ متاثر نہ ہو۔

فوجی دستوں کے لیے مامونیت سے متعلق اس نئے مسودہ قانون کے تحت، جسے جمعرات کو رات گئے منظور کیا گیا، کرد علیحدگی پسندوں کی ممنوعہ جماعت کردستان ورکرز پارٹی یا PKK کی مسلح بغاوت کو کچلنے کے لیے ترک فوجی دستوں کو وسیع تر اضافی اختیارات بھی دے دیے گئے ہیں۔ ترک حکومت اور کردستان ورکرز پارٹی کے مابین طے پانے والا فائر بندی معاہدہ دو سال تک مؤثر رہنے کے بعد گزشتہ برس ناکام ہو گیا تھا۔

انقرہ میں پارلیمان کے اس تازہ فیصلے کے بارے میں روئٹرز نے اپنے ایک تجزیے میں لکھا ہے کہ 2014ء میں صدارتی منصب پر فائز ہونے سے قبل اس دور کے وزیر اعظم رجب طیب ایردوآن نے اپنے دور حکومت کا زیادہ تر عرصہ اس کام کے لیے وقف کر دیا تھا کہ فوج پر سول حکومت کی نگرانی زیادہ جامع اور مؤثر ہونی چاہیے۔ تاہم جب سے ایردوآن صدر بنے ہیں اور ترکی میں کئی قانونی تبدیلیاں دیکھنے میں آئی ہیں، ان میں سے یہ تازہ ترین پارلیمانی فیصلہ اور اس طرح منظور کیا جانے والا نیا قانون خود ایردوآن ہی کی متعارف کردہ ماضی کی متعدد اصلاحات کی نفی کرتے ہیں۔

Türkei Kurdistan Diyarbakir Ausschreitungen Polizei

گزشتہ ایک سال کے دوران کرد اکثریتی آبادی والے ترک علاقوں میں ایسے مناظر بارہا دیکھنے میں آ چکے ہیں

نئی قانون سازی کے بعد اس بات کی ممکنہ چھان بین اور بھی مشکل ہو جائے گی کہ آیا ترک فوجی دستے اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے مرتکب ہوئے۔ یہ پہلو اس لیے بھی اہم ہے کہ ماضی میں اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے لیے سرگرم کئی بین الاقوامی تنظیمیں اس بارے میں گہری تشویش کا اظہار کر چکے ہیں کہ گزشتہ برس ترک فوجی دستے ملک کے کئی بہت گنجان آباد علاقوں میں کرد عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائیاں کرتے ہوئے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے مرتکب ہوئے تھے۔

اس تناظر میں ترک اپوزیشن جماعتوں کا یہ دعویٰ بھی بالکل بے بنیاد نہیں ہے کہ ترک دستوں کی ان مسلح کارروائیوں کے دوران اب تک سینکڑوں عام شہری بھی مارے جا چکے ہیں۔

ترک صدر رجب طیب ایردوآن کے مطابق جب سے کردستان ورکرز پارٹی کے ساتھ فائر بندی معاہدہ ناکام ہوا ہے، اس کالعدم تنظیم کے عسکریت پسندوں کے ساتھ فوجی دستوں کی جھڑپوں میں قریب ساڑھے سات ہزار کرد جنگجو مارے جا چکے ہیں۔ اس کے علاوہ انہی فوجی کارروائیوں اور کرد شدت پسندوں کے مسلح حملوں میں اب تک قریب 500 ترک فوجی اور پولیس اہلکار بھی ہلاک ہو چکے ہیں۔