1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کرد جماعت نے انقرہ دھماکوں کی ذمہ داری حکومت پر عائد کر دی

ترک دارالحکومت میں ہونے والے بم دھماکوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد چھیاسی ہو گئی ہے۔ سو سے زائد افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ کرد جماعت پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے ایک رہنما نے ترک حکومت پر دھماکوں کی ذمہ داری عائد کی ہے۔

ہفتے کے روز ہونے والے دو دھماکوں کا نشانہ بائیں بازو اور کردوں کی ایک حکومت مخالف ریلی تھی۔ کرد جماعت کا الزام ہے کہ یہ حملے ریاست نے عوام پر کیے ہیں۔

ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے دھماکوں کی مذمت کرتے ہوئے انہیں ملک کی یک جہتی اور امن کے خلاف ایک کارروائی قرار دیا ہے۔

دھماکے ایک ایسے وقت کیے گئے ہیں جب ترکی میں اگلے ماہ عام انتخابات منعقد ہونا ہیں۔

ترک حکومت کے ایک اہل کار نے خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حکام کو خدشہ ہے کہ ہفتے کے روز ہونے والے دھماکوں کے پیچھے ’’دہشت گردوں کا ہاتھ ہے۔‘‘ انہوں نے اس حوالے سے مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔ اس بارے میں بھی تفتیش کی جا رہی ہے کہ آیا یہ حملے خود کش تھے یا نہیں۔

وزیر داخلہ سلامی آلتینوک کا کہنا ہے کہ ان کا حملوں کے بعد مستعفی ہونے کا ارادہ نہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ریلی میں ’’سکیورٹی کا فقدان‘‘ تھا۔

ترک حکومت اور کالعدم کردستان ورکرز پارٹی کے عسکری دھڑے کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ جولائی میں ٹوٹ گیا تھا، جس کے بعد سے ترکی میں پرتشدد واقعات رونما ہو رہے ہیں۔ تقریباً دو برس تک جاری رہنے والی جنگ بندی کے خاتمے کے بعد سے اب تک فریقین کے چار سو کے قریب افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ان مسلح واقعات کے بعد ترکی میں سکیورٹی کی صورت حال خراب سے خراب تر ہونے لگی ہے۔ بیس جولائی کو ایک کرد اکثریتی علاقے میں ہونے والے حملے میں بتیس افراد ہلاک اور سو کے قریب زخمی ہوئے تھے۔ حملے کا الزام شام اور عراق میں متحرک شدت پسند اسلامی تنظیم داعش پر عائد کیا گیا تھا۔

حملوں کے بعد ریلی کے مقام پر افراتفری کا عالم تھا۔ باون سالہ احمد عنان کہتے ہیں: ’’ہم نے ایک بڑے دھماکے کی آواز سنی اور اس کے بعد ایک چھوٹے دھماکے کی۔ اس کے بعد لوگ بھاگتے دکھائی دیے۔ ہم نے اسٹیشن پر جا بہ جا لاشیں بکھری دیکھیں۔‘‘

وہ مزید کہتے ہیں: ’’ایک مظاہرہ جو امن کی ترویج کے لیے تھا ایک مقتل بن گیا۔ ایسا کیوں ہوا، میں نہیں جانتا۔‘‘