1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کرد باغیوں کے نئے حملے: تین ترک فوجی ہلاک، درجنوں زخمی

مشرقی ترکی میں ملکی فوج کے ایک علاقائی ہیڈکوارٹر پر کرد باغیوں کے ایک بڑے خود کش بم حملے میں دو فوجیوں کی ہلاکت اور چوبیس دیگر کے زخمی ہو جانے کے بعد اس تنازعے کے خونریز تر ہو جانے سے متعلق خدشات اور زیادہ ہو گئے ہیں۔

استنبول سے ملنے والی نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں کے مطابق کرد علیحدگی پسند باغیوں کی ممنوعہ تنظیم کردستان ورکرز پارٹی یا PKK کے عسکریت پسندوں کی طرف سے یہ بم حملہ آج اتوار دو اگست کی صبح کیا گیا۔

ترک نیوز ایجنسی اناطولیہ نے مقامی حکومتی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ یہ حملہ ایک ایسے ٹریکٹر کو ملکی فوج کے ایک مقامی ہیڈکوارٹر کے ساتھ ٹکرا کر کیا گیا، جس پر حکام کے مطابق دو ٹن دھماکہ خیز مواد لدا ہوا تھا۔ کرد باغیوں نے اس حملے میں مشرقی ترک صوبے آگری کے ضلع دوغوبایزید کے ایک ملٹری اسٹیشن کو نشانہ بنایا۔

اے ایف پی نے لکھا ہے کہ ترک فوج کی شام اور ترکی میں کرد باغیوں کے خلاف بڑھتی ہوئی فوجی کارروائیوں اور ممنوعہ کردستان ورکرز پارٹی کے عسکریت پسندوں کی طرف سے بار بار کے مسلح حملوں کے پس منظر میں اس تازہ ترین بم دھماکے میں ان سرکاری دستوں کو بھی نشانہ بنایا گیا، جن کا تعلق ترک فوج کے ایک ایسے ذیلی شعبے سے ہے، جو داخلی سلامتی کی صورت حال کی نگرانی کرتا ہے۔

کرد باغیوں نے ترک فوج اور پولیس اہلکاروں کے خلاف اپنی مسلح کارروائیاں گزشتہ چند روز کے دوران کتنی تیز کر دی ہیں، اس کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ آج ہی مشتبہ کرد باغیوں کے ملکی فوج کے ایک قافلے پر کیے گئے حملے میں بھی ایک فوجی مارا گیا۔

یہ حملہ جنوب مشرقی ترکی کے صوبے ماردین میں مِدیَت کے ضلع میں ایک بارودی سرنگ کے دھماکے کی صورت میں کیا گیا، جس کے نتیجے میں اتوار کو علی الصبح ایک فوجی ہلاک اور چار دیگر زخمی ہو گئے۔

Türkei Soldaten auf Patrouille in der Provinz Sirnak

گزشتہ ہفتے سے کرد باغیوں نے ترک سکیورٹی فورسز پر اپنے حملے تیز کیے ہیں

اے ایف پی نے لکھا ہے کہ گزشتہ ہفتے کے دوران جب سے کرد باغیوں نے ترک سکیورٹی فورسز پر اپنے حملے تیز کیے ہیں اور انقرہ حکومت اور کردوں کے مابین قیام امن کا عمل تقریباﹰ یقینی ناکامی سے دوچار ہوا ہے، مشتبہ طور پر پی کے کے سے تعلق رکھنے والے عسکریت پسندوں کے حملوں میں کم از کم گیارہ ترک سکیورٹی اہلکار مارے جا چکے ہیں۔

اس کے علاوہ داخلی کشیدگی میں اسی اضافے کے دوران نہ صرف درجنوں مشتبہ کرد عسکریت پسند بھی ہلاک ہو چکے ہیں بلکہ ملک بھر میں چھاپوں کے دوران سینکڑوں عسکریت پسندوں کو گرفتار بھی کیا جا چکا ہے۔