1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’کردوں کے بغیر امریکا سے عسکری تعاون ممکن‘ ترک وزیر خارجہ

ترکی نے امریکا کو پیشکش کی ہے کہ شامی کرد ملیشیا کی عدم شمولیت کی صورت میں وہ شام کے اندر جہادیوں کے خلاف جاری امریکی کارروائی میں تعاون فراہم کر سکتا ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے ترک وزیر خارجہ مولو چاوش اولو کے حوالے سے بتایا ہے کہ ترکی شام میں جہادیوں کے خلاف جاری عالمی مہم میں امریکا کے ساتھ تعاون کرنے کو تیار ہے۔

DW.COM

ترک وزیر نے کہا کہ شام کے اندر امریکا کے ساتھ مل کر فوجی کارروائی کی جا سکتی ہے لیکن اس کارروائی میں شامی کرد باغیوں کو شامل نہیں کیا جانا چاہیے۔

چاوش اولو نے سیاحتی مقام انطالیہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’اگر ہم مشترکہ کارروائی کرتے ہیں تو ان (امریکا) کی اپنی خصوصی فورسز ہوں گی اور ہمارے اپنے خصوصی دستے۔‘‘

چاوش اولو نے کہا کہ اس اتحاد کی صورت میں داعش کے خود ساختہ دارالحکومت الرقہ تک رسائی حاصل کرنا انتہائی سہل ہو جائے گا۔

واشنگٹن حکومت نے ابھی تک ترکی کی اس پیشکش پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔ شام میں جہادیوں کے خلاف زمینی کارروائی کے لیے امریکا کرد اور عرب فائٹرز کے سیریئن ڈیموکریٹک فورس (ایس ڈی ایف) نامی اتحاد کی معاونت کر رہا ہے۔

انقرہ نے اس شامی کرد گروہ کو دہشت گرد قرار دے رکھا ہے جبکہ شام کی لڑائی میں یہ امریکا کا اہم اتحادی ہے۔

ابھی تک داعش کے خلاف زمینی کارروائی میں واشنگٹن کا یہ بہترین ہتھیار ثابت ہو رہا ہے۔ تاہم ایس ڈی ایف میں YPG کے بھی بہت سے جنگجو شامل ہیں، جنہیں ترکی کالعدم تنظیم کردستان ورکز پارٹی کی ایک شاخ قرار دیتا ہے۔

چاوش اولو کے مطابق عرب اتحادی طاقتیں پہلے ہی شامی صدر بشار الاسد کی مخالفت میں ہیں جبکہ اس صورت میں ترکی، امریکا، فرانس، برطانیہ اور جرمنی کی خصوصی فورسز زمینی حقائق پر اثرانداز ہو سکتی ہیں۔

Türkischer Außenminister Cavusoglu

ترک وزیر خارجہ مولو چاوش اولو کے بقول ترکی شام میں جہادیوں کے خلاف جاری عالمی مہم میں امریکا کے ساتھ تعاون کرنے کو تیار ہے

ترک وزیر خارجہ نے وضاحت کرتے ہوئے کہا، ’’ہم صرف یہی چاہتے ہیں کہ جتنی جلد ممکن ہو منبج کا محاذ ختم کر دیا جائے اور ایک دوسرا محاذ کھولا جائے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ لیکن اس نئے مجوزہ محاذ پر PYD کو شامل نہیں کیا جانا چاہیے، ’’بدقسمتی سے امریکا اور روس دونوں ہی اس دہشت گرد گروہ کو ساتھی تصور کرتے ہوئے اس کی مدد کر رہے ہیں۔‘‘

انقرہ میں حکومتی ترجمان نے وزیر خارجہ کی اس پیشکش کے بارے میں تفصیلات بتانے سے منع کر دیا ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ ترکی وہ سب کچھ کرے گا، جس سے اس کی ملکی سرحدوں کی بہتر نگرانی اور تحفظ ممکن بنا جا سکتا ہے۔