1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

کراچی کی سڑکوں پر زندگی گزارتے ہزاروں بچے

گھریلو تشدد یا ماں باپ کے درمیان تعلقات منقطع ہو جانے جیسے حالات کے شکار کوئی 20 ہزار بچے پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کی سڑکوں پر زندگی گزارتے ہیں، ایک ایسی زندگی، جس میں منشیات اور جرائم بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔

default

کراچی کی بھاگتی دوڑتی زندگی

پاکستان بھر میں ایسے بچوں کی تعداد کا اندازہ ڈیڑھ لاکھ لگایا گیا ہے۔ فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے ایک جائزے میں جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے گیارہ سالہ تنویر احمد کی مثال دی گئی ہے، جو اپنے گھر سے بھاگ گیا اور سولہ ملین انسانوں کے شہر کراچی کی سڑکوں پر زندگی گزارتے ہوئے جسم فروشی کے گھناؤنے کاروبار میں ملوث ہونے پر مجبور ہو گیا۔

آج کل یہی بچہ اپنی طرح کے پندرہ دیگر بچوں کے ہمراہ آرٹ کی کلاسیں لے رہا ہے اور اپنی آنکھوں میں ایک روشن مستقبل کے خواب سجائے ہوئے ہے۔ تنویر نے بتایا:’’یہ چار سال میری زندگی کے خوفناک سال تھے۔ یہ زیادتی تھی۔ مَیں نہیں جانتا تھا کہ کیا ہو گا۔ مَیں اِس لئے گھر سے بھاگا کیونکہ میرے رشتہ دار مجھے مسلسل تنگ کرتے رہتے تھے۔ مَیں پڑھنا چاہتا تھا لیکن وہ مجھے کام کرنے پر مجبور کرتے تھے۔‘‘

تنویر کو اِن بھیانک شب و روز سے نجات دلانے میں بنیادی کردار رانا آصف حبیب نے ادا کیا ہے، جو ایک رفاہی ادارہ IHDF (اِنیشی ایٹر ہیومن ڈیویلپمنٹ فاؤنڈیشن) چلا رہے ہیں۔ اِس ادارے کا نصب العین ہی یہ ہے کہ سڑکوں پر زندگی گزارنے پر مجبور بچوں کی بحالی کے لئے کام کیا جائے اور اُنہیں نہ صرف ایک اچھا مستقبل دیا جائے بلکہ کچھ ایسا کیا جائے کہ وہ پھر سے اپنے گھر والوں کے ساتھ بھی بہتر تعلقات قائم کر سکیں۔

Weltkindertag Junge schaut sich eine Aufführung während des Weltkindertags 2006 an Mumbai Indien

دنیا بھر میں لاکھوں بچے سڑکوں پر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں

تنویر کہتا ہے:’’اب میں پینٹنگز بناتا ہوں، فوٹوگرافی کرتا ہوں، شام کو ایک سکول میں پڑھنے جاتا ہوں اور دن کو ایک دکان پر کام کرتا ہوں۔ اب مَیں اپنے والدین اور تین چھوٹے بہن بھائیوں کے ساتھ خوش ہوں۔ وہ بھی میری بہتر زندگی کو دیکھ کر خوش ہیں۔‘‘

آصف حبیب بتاتے ہیں کہ کراچی میں بہت سے بچے جسم فروشی کے کاروبار میں ملوث ہونے پر مجبور ہو جاتے ہیں:’’سڑکوں پر زندگی گزارنے والے بچوں کی ایک بڑی تعداد اِس گھناؤنے کاروبار کا حصہ بن جاتی ہے۔ تنویر اُن چند بچوں میں سے ایک ہے، جنہوں نے ہماری مدد قبول کی ہے۔ بہت سے دیگر اتنی آسانی سے اِس کاروبار کو نہیں چھوڑ پاتے۔ بالآخر تنویر ایک تخلیقی ذہن رکھنے والا بچہ ثابت ہوا ہے۔‘‘

Pakistan Bildung Straßenschule bei Karachi

تعلیم و تربیت اور خواندگی کے حوالے سے پاکستان کا شمار دُنیا کے پسماندہ ترین ملکوں میں ہوتا ہے

یہ بچے جنگ، غربت، گھریلو تشدد اور تعلیمی اداروں میں اپنے ساتھ ہونے والی بدسلوکی سے تنگ آ کر سڑکوں کا رُخ کرتے ہیں، جہاں اور بھی زیادہ مشکل زندگی اُن کی منتظر ہوتی ہے۔ یہی اَن پڑھ بچے بالآخر جرائم کی دُنیا میں قدم رکھ دیتے ہیں، منشیات کے عادی ہو جاتے ہیں یا پھر انتہا پسند تنظیموں میں شامل ہو جاتے ہیں۔ جسمانی اور جنسی زیادتیوں کے سبب یہ بچے مختلف طرح کی بیماریوں میں بھی مبتلا ہو جاتے ہیں۔

رفاہی ادارے کے کارکنوں کے مطابق اِن میں سے کئی بچوں کو کیمرے دئے جاتے ہیں اور پھر اُن کی اُتاری ہوئی تصاویر کی نمائشوں کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ کئی دیگر بچوں کو مصوری کی تربیت دی جاتی ہے یا پھر پیسہ کمانے کے لئے اُنہیں موم بتیاں وغیرہ بنانا سکھایا جاتا ہے۔ ساتھ ساتھ اِن بچوں کو کتابیں اور کھانا بھی فراہم کیا جاتا ہے اور سونے کے لئے جگہ بھی دی جاتی ہے۔

پاکستان میں خواندگی کی شرح 57 فیصد بتائی جاتی ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 46 فیصد بچوں کو سرے سے ہی سکول میں داخل نہیں کروایا جاتا، پورے جنوبی ایشیا میں یہ نچلی ترین شرح ہے۔ 50 فیصد بچے داخلہ تو لیتے ہیں لیکن اپنی تعلیم ادھوری چھوڑ دیتے ہیں، دُنیا بھر میں یہ نچلی ترین شرحوں میں سے ایک ہے۔ ملک کی 30 فیصد آبادی خطِ افلاس سے نیچے کی زندگی گزارنے پر مجبور ہے اور اُس کی روزانہ آمدنی ایک ڈالر یا اُس سے بھی کم ہے۔

رپورٹ : امجد علی

ادارت : افسر اعوان

DW.COM