1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کراچی کا اگلا میئر کون بنے گا؟

صوبہ سندھ میں بلدیاتی انتخابات کے تیسرے مرحلے میں کراچی کے چھ اضلاع میں پولنگ شروع ہوچکی ہے۔ مجموعی طور پر ستر لاکھ تراسی ہزار چھیاسٹھ مرد و خواتین اپنا حق رائے دہی استعال کرنے کے اہل ہیں۔

مختلف پولنگ اسٹیشںوں پر بیلٹ پیپرز سمیت دیگر سامان کی ترسیل میں تاخیر اور روایتی مسائل کے باعث ابتدا میں ووٹنگ کا عمل سست روی کا شکار رہا۔ ملک کے دیگر حصوں کی طرح کراچی میں دس سالہ وقفہ کے بعد ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں متحدہ قومی موومنٹ، جماعت اسلامی، پیپلز پارٹی، مسلم لیگ نواز، جمعیت علماء پاکستان، جمعیت علماءِ اسلام، مہاجر قومی موومنٹ اور تحریک انصاف سمیت پندرہ سیاسی جماعتوں کے علاوہ آزاد امیدوار بھی حصہ لے رہے ہیں۔

کُل دو سو انیس یونین کونسل کے انتخابات کیلئے دو ہزار سے زائد امیدوار میدان میں ہیں مگر اصل مقابلہ سندھ کے شہری علاقوں کی سب سے بڑی جماعت ایم کیو ایم اور جماعت اسلامی اور تحریک انصاف کے اتحاد کے درمیان متوقع ہے۔ پیپلز پارٹی کو بلدیاتی انتخابات میں اپنے گڑھ سمجھے جانے والے لیاری میں تحریک انصاف کی مضبوط اپوزیشن کا سامنا ہے جبکہ ملیر میں بھی مختلف برادریوں کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار بھی بحرانوں کا شکار پیپلز پارٹی کو ٹف ٹائم دینے کیلئے پرعزم ہیں۔

Pakistan - Karachi

کراچی میں سکیورٹی الرٹ کر دی گئی ہے

چھ اضلاع کی مختلف نشستوں پر چھیالیس امیدوار بلا مقابلہ منتخب ہوچکے ہیں جس میں سےلیاری سے مسلم لیگ نواز کے امیدوار کی کامیابی اہم تصور کی جا رہی ہے۔

تجزیہ کاروں کی رائے میں ماضی میں لیاری گینگ وار کی مبینہ حمایت نے لیاری میں پیپلز پارٹی کے ووٹ بینک کو بہت نقصان پہنچایا ہے جبکہ پیپلز پارٹی کے سابق رہنما نبیل گبول کا گروپ بھی پیپلز پارٹی کیلیے لیاری میں مشکلات کا سبب بنا ہوا ہے۔

دہشتگردوں کے فوج اور رینجرز سمیت دیگر قانون نافذ کرنے والے حملوں کے باوجود بھی بلدیاتی انتخابات کیلیے ہر جماعت نے بھرپور مہم چلائی ہے ، جلسوں، کارنر میٹنگز اور ریلیوں کا انعقاد کیا گیا۔ ایم کیو ایم کو رینجرز کی جانب سے چھاپوں اور کارکنوں کی گرفتاریوں کی صورت میں مہم کے دوران مشکلات پیش آئیں،

ایم کیو ایم کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے الزام عائد کیا ہے کہ چھاپوں اور گرفتاریوں کی صورت میں ایم کیو ایم کا گراونڈ کسی اور کو دینے کی کوشش کی گئی ہے تاہم انکا دعوٰی ہے کہ ایم کیو ایم ماضی میں کراچی میں کیے گئے ترقیاتی کاموں کے باعث اپنی ہی کامیابی کے ریکارڈ توڑ دے گی اور مخالفین انتخابات ملتوی کرانے کی کوششوں میں ناکام ہونے کے بعد دوپہر بارہ بجے تک انتخابات کا بائیکاٹ کردیں گے۔

دوسری جانب جماعت اسلامی اور تحریک انصاف کی جانب سے بھی کامیابی کے دعوے کیے جارہے ہیں، جماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمان کہتے ہیں کہ پی ٹی آئی کے ساتھ ہونے والا اتحاد کامیابی سے ہم کنار ہوگا اور وہ جیت کر شہر کو اسکا اصل مقام واپس دلائیں گے۔

مبصرین بھی کراچی کے بلدیاتی انتخابات کو ایم کیو ایم اور جماعت اسلامی اور تحریک انصاف کے درمیان مقابلہ دیکھ رہے ہیں ۔ معروف صحافی امین حسین شاہ کہتے ہیں کہ شہر کی سب سے زیادہ یعنی اکیاون یونین کونسلز ضلع وسطی میں ہیں جو ایم کیو ایم کا گڑھ سمجھا جاتا ہے جبکہ اردو بولنے والوں کی دیگر آبادیوں میں بھی ایم کیو ایم کی واضح اکثریت ہے تاہم دیگر آبادیوں خصوصاً پشتون بستیوں میں جماعت اسلامی اور تحریک انصاف کا اتحاد یقیناً کامیابی حاصل کرسکتا ہے مگر حیران کن امر یہ ہے کہ شہر کی واحد ڈسٹرکٹ کونسل ملیر کیلیے ایم کیو ایم کا کوئی امیدوار میدان میں نہیں ہے جس سے پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے درمیان انڈر اسٹینڈنگ ظاہر ہوتی ہے۔

Altaf Hussain

تجزیہ کاروں کی رائے میں ایم کیو ایم اگر اکثریت حاص کرنے میں کامیاب ہوبھی گئی تو اس بار با آسانی میئر شب حاصل کرنا ماضی کی طرح آسان نہیں ہوگا

کراچی میں بلدیاتی انتخابات کے موقع دہشتگردی کے خطرے کے پیش نظر غیر معمولی حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں۔ پینتیس ہزار سے زائد پولیس اہلکار کی تعیناتی کے علاوہ رینجرز اور فوج کو بھی اسٹینڈ بائی رکھا گیا ہے۔

جبکہ الیکشن کمیشن نے پولنگ شروع ہونے سے صرف چند گھنٹے قبل رینجرز کو پولنگ اسٹیشن کے اندر جانے اور افراد کو حراست میں لینے کا اختیار بھی دے دیا ہے۔

تجزیہ کاروں کی رائے میں ایم کیو ایم اگر اکثریت حاص کرنے میں کامیاب ہوبھی گئی تو اس بار با آسانی میئر شب حاصل کرنا ماضی کی طرح آسان نہیں ہوگا ۔