1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کراچی پھر خونریزی کی لپیٹ میں، 38 شہری مارے گئے

پاکستان کے سب سے بڑے شہر اور اقتصادی مرکز کراچی میں دو دن کے اندر بد امنی کے واقعات نے مزید 38 افراد کی جان لے لی ہے۔ شہر میں خونریزی کا یہ تازہ سلسلہ حکمران پیپلز پارٹی کے ایک سابق ایم این اے کے قتل کے بعد شروع ہوا ہے۔

default

لیاری سے قومی اسمبلی کے سابق رکن احمد کریم داد بلوچ کو بدھ کی شب موٹرسائیکل پر سوار مسلح افراد نے کھارادر میں ہلاک کیا تھا۔ اس واقعے کے بعد سے لیاری کے اطراف اور شہر کے بعض دیگر علاقوں میں ہدف بنا کر فائرنگ اور بد امنی کے دیگر واقعات میں اضافہ نوٹ کیا گیا۔ شہر کے سرکاری ہسپتالوں سے موصولہ اطلاعات کے مطابق ان واقعات میں 30 ہلاکتوں کی تصدیق ہو سکی ہے۔ کراچی سے ہمارے نامہ نگار رفعت سعید کے مطابق مرنے والے شہریوں کی تعداد 38 تک پہنچ چکی ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز نے پولیس ذرائع کے حوالے سے بتایا:’’یہ گزشتہ ماہ کی طرح کے واقعات نہیں، یہ ایک گروہی جنگ (Gang War) جیسے واقعات ہیں، یہ گروہ ایک دوسرے سے لڑتے رہتے ہیں، اور مخالفین کو نشانہ بناتے ہیں۔‘‘ یاد رہے کہ گزشتہ کئی دنوں سے شہر میں عام افراد کو فائرنگ کر کے ہلاک کیے جانے کے بہت زیادہ واقعات ہو رہے تھے۔

Osama bin Laden Tod Reaktion Pakistan

برطانوی اخبار فنانشیئل ٹائمز کے مطابق کراچی میں سکیورٹی اداروں کو دہشت گردوں پر محض نظر رکھنے کی اجازت ہے، کارروائی کرنے کی صلاحیت سے سکیورٹی ادارے محروم نظر آتے ہیں

پولیس ذرائع کے مطابق اگرچہ ان گروہوں کو سیاسی سرپرستی حاصل رہتی ہے تاہم بد امنی کے حالیہ واقعات کی بنیاد سیاسی نہیں۔ نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایک پولیس اہلکار نے روئٹرز کو بتایا کہ عین ممکن ہے، مارے جانے والوں میں سے کچھ کو لسانی بنیادوں پر مارا گیا ہو۔ پاکستان کے وفاقی وزیر داخلہ نے رواں ماہ ہی اس اہم شہر میں امن و سلامتی کے قیام کے دعوے کیے تھے مگر صورتحال میں کوئی واضح فرق دکھائی نہیں دے رہا۔

شہر کی گزشتہ بیس سالہ تاریخ میں گزشتہ ماہ خونریز ترین رہا، جس دوران 300 سے زائد شہری بد امنی کی نذر ہوگئے۔ پاکستان کے حقوق انسانی کمیشن کے مطابق شہر کے اندر سات ماہ میں قریب 800 افراد مسلح دہشت گردوں کی فائرنگ میں مارے جا چکے ہیں۔

رپورٹ شادی خان سیف

ادارت امجد علی

DW.COM