1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کراچی میں کارگو طیارہ کریش کرگیا

کراچی ایئر پورٹ سے سوڈانی دارالحکومت خرطوم کے لئے پرواز کرنے والا ایک روسی ساختہ کارگو طیارہ اڑان کے چند ہی لمحوں بعد ایک رہائشی علاقے کے قریب گر کر تباہ ہو گیا۔

default

فائل فوٹو

پاکستانی حکام کے مطابق اس طیارے پر کل آٹھ افراد سوار تھے جبکہ حادثے کے نتیجے میں ان میں سے کوئی شخص زندہ نہیں بچا۔ پاکستان کی سول ایوی ایشن اتھارٹی کے ترجمان نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ اتوار کی صبح تباہ ہونے والا یہ طیارہ روسی ساختہ کارگو Ilyushin IL-76 تھا۔

مقامی حکام کے مطابق طیارہ ایئرپورٹ سے پرواز کرتے ہی، آگ کے گولے میں بدل گیا اور ڈالمیا کے رہائشی علاقے کے قریب گر کر تباہ ہوگیا۔ اس علاقے میں پاکستانی فضائیہ اور نیوی کے رہائشی اپارٹمنٹس ہیں، جبکہ اس علاقے میں متعدد دیگر حساس تنصیبات بھی ہیں۔ حکام کے مطابق یہ طیارہ ایک زیرتعمیر عمارت پر گرا، جس کی وجہ سے زیادہ ہلاکتیں نہیں ہوئیں تاہم کراچی پولیس کے مطابق اس حادثے میں تین افراد زخمی بھی ہوئے ہیں، جنہیں ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

حکام کے مطابق تباہ ہونا والا طیارہ کراچی ایئر پورٹ سے اتوار کی صبح ایک بجکر 45 منٹ پر اڑا جبکہ صرف 30 سیکنڈ بعد گر کر تباہ ہو گیا۔

Pakistan Flugzeug Absturz Air Blue

رواں سال جولائی میں اسلام آباد میں گرنے والے طیارے کا ملبہ

اتوار کو جہاز کا یہ حادثہ گزشتہ چار ماہ میں پاکستان میں ہونے والا چوتھا فضائی حادثہ ہے، جبکہ صرف ایک ماہ میں کراچی ایئرپورٹ سے پرواز کرنے والے جہاز کا یہ دوسرا حادثہ ہے۔

کراچی پولیس کے سربراہ فیاض لغاری کے مطابق طیارے کے گرنے کے نتیجے میں ہونے والا دھماکہ اس قدر شدید تھا کہ مقامی افراد اسے بم دھماکہ سمجھے۔ لغاری کے مطابق جہاز کے گرنے کی وجہ سے ایک عمارت میں آگ لگ گئی، جس پر بعد میں قابو پا لیا گیا۔

واضح رہے کہ یہ طیارہ تقریبا اسی علاقے میں گرا ہے، جہاں رواں ماہ کے آغاز پر ایک چھوٹا طیارہ گر کر تباہ ہوا تھا۔ اُس حادثے میں 21 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

اس سے قبل رواں برس جولائی میں کراچی سے اسلام آباد جانے والا ایک مسافر طیارہ لینڈنگ سے چند منٹ قبل مارگلہ کی پہاڑیوں میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ اُس حادثے کے نتیجے میں 152 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔

رپورٹ : عاطف توقیر

ادارت : شادی خان سیف

DW.COM

ویب لنکس