1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

کراچی میں چھ ماہ میں چار سو نوے ٹارگٹ کِلنگز کے واقعات: ایچ آر سی پی

پاکستانی کمیشن برائے انسانی حقوق کے مطابق سال دو ہزار گیارہ کے پہلے چھ ماہ میں کراچی میں چار سو نوے افراد ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنے۔

default

پاکستان کے غیر جانبدار کمیشن برائے انسانی حقوق، ایچ آر سی پی، نے منگل کے روز ایک رپورٹ جاری کی جس میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان کے جنوبی بندرگاہی شہر کراچی میں سال کے پہلے چھ ماہ میں چار سو نوے افراد کو نشانہ بنا کر ہلاک کیا گیا۔ پاکستانی ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی رپورٹ کے اقتباسات کے مطابق کمیشن نے شہر میں سکیورٹی کی مخدوش صورت حال پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔

رپورٹ کے مطابق سن دو ہزار گیارہ کی پہلی ششماہی میں کراچی میں ایک ہزار ایک سو اڑتیس افراد ہلاک ہوئے جن میں چار سو نوے ٹارگٹ کلنگز کا شکار ہوئے، جو سیاسی، فرقہ ورانہ اور لسانی بنیادوں پر ہلاک کیے گئے۔ ایچ آر سی پی کی چیئرپرسن زہرہ یوسف کے مطابق یہ ہلاکتیں حکومت کی شہریوں کو تحفظ دینے میں ناکامی کا ثبوت ہیں۔ کمیشن کی چیئرپرسن کا یہ بھی کہنا ہے کہ حکومت ان ہلاکتوں میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی سے اجتناب اپنی اتحادی جماعتوں کو ناراض نہ کرنے کی پالیسی کے تحت کر رہی ہے۔

Pakistan Innenminister Rehman Malik

حکومت شہریوں کو سکیورٹی مہیا کرنے میں ناکام رہی ہے، ایچ آر پی سی

کمیشن کی رپورٹ کے مطابق چار سو نوے افراد میں سے ڈیڑھ سو کا قتل ان کی سیاسی وابستگی کی بنا پر ہوا، چھپن کا لسانی وابستگی اور آٹھ کا فرقہ ورانہ بنیادوں پر ہوا۔ ٹارگٹ کلنگز کا نشانہ بننے والے ڈھائی سو افراد کی کسی سیاسی جماعت سے وابستگی نہیں تھی۔ کمیشن کے مطابق 77 افراد کا تعلق متحدہ قومی موومنٹ، چھبیس کا پاکستان پیپلز پارٹی، انتیس کا اے این پی، سولہ کا مہاجر قومی موومنٹ، سات کا سنی تحریک، نو کا اہل سنّت، دو کا جمیعت علماء اسلام اور ایک ایک فرد کا تعلق دیگر جماعتوں کے علاوہ جسقم اور جماعت اسلامی سے تھا۔ رپورٹ کے مطابق ہلاک ہونے والے چار افراد کالعدم تنظیم سپاہ صحابہ سے تھا اور یہ قتل سیاسی نوعیت کے تھے۔

کمیشن کی چیئر پرسن زہرہ یوسف کے مطابق لیاری اور اورنگی کے علاقے امن و امان کے حوالے سے سب سے بری حالت میں ہیں۔ انہوں نے پاکستان کے وزیر داخلہ رحمان ملک کے اس بیان کو غیر حقیقت پسندانہ قرار دیا جس میں ان کا کہنا تھا کہ کراچی میں ٹارگٹ کلنگز پر جلد قابو پا لیا جائے گا۔

رپورٹ: شامل شمس⁄ خبر رساں ادارے

ادارت: ندیم گِل

DW.COM