1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کراچی میں ٹارگٹ کلنگ میں درجنوں ہلاک

گزشتہ تین دنوں سے جاری دہشت گردی کے واقعات میں انتالیس افراد جاں بحق اور پچاس سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔ شہر میں ہدف بنا کر قتل کرنے کے واقعات کا آغاز منگل کی شام کو ہوا تھا۔

default

ناقدین کے مطابق پولیس سیاسی دباؤکا شکار ہے

الطاف حیسن کی متحدہ قومی موومنٹ اورعوامی نیشنل پارٹی ایک دوسرے پر ان واقعات مین ملوث ہونے کے الزامات لگا دیتے ہیں۔

اے این پی سندھ کے صدر شاھی سید نے ایک پریس کانفرنس میں الزام لگایا کہ اس قسم کے واقعات ماضی میں بھی ہوتے رہے ھیں مگر یہ بات حکو مت کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ معلوم ہوتے ہوئے بھی قاتلوں کو گرفتار نہیں کیا گیا۔

دوسری جانب متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما فیصل سبزواری کا کہنا تھا کہ اب شہر میں لاشوں کی سیاست ہو رہی ہے اور اے این پی اس مذموم مقصد کے لیے ایم کیو ایم کے خلاف جھوٹا پروپیگندہ کر رہی ہے۔

گزشتہ دو دنوں میں لاقانونیت اور قتل و غارت گری کے واقعات کو دیکھتے ہوئے بہ خوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ حکومت جدید اسلحہ سے لیس گروپوں کے خاتمے کی سنجیدہ کوشش کرنے سے گریزاں رہے۔ ماضی کی طرح اس مرتبہ بھی امن و امان کی بحالی کے لیے اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوئے۔ مگر بے نتیجہ، کیونکہ سیاسی معجون کی بناء پر مسلح سیاسی گروپوں کے خلاف پولیس اور نیم فوجی رینجرز کو اجلاس میں تو اختیارات دیئے جاتے ہیں مگر ان پر عمل درآمد کی اجازت نہیں ہوتی۔

کراچی پولیس کے سربراہ وسیم احمد کا بیان کہ وہ حدف بنا کر قتل کرنے والوں کی نشاندہی نہیں کرسکتے، پولیس پر سیاسی دباؤ کی واضح عکاسی کرتا ہے۔

رپورٹ: رفعت سعید، کراچی

ادارت: عاطف بلوچ

DW.COM