1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کراچی میں ٹارگٹ کلنگ: جون سال رواں کا بدترین مہینہ

وزارت داخلہ کے کرا ئسسز منیجمنٹ سیل کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 6 ماہ میں صرف کراچی میں 700 افراد قتل ہوچکے ہیں۔ ان وارداتوں میں فرقہ ورانہ،لسانی ، ذاتی دشمنیوں اور سیاسی بنیادوں پر ہونے والے قتل بھی شامل ہیں۔

default

کراچی میں فرقہ ورانہ اور لسانی بنیادوں پر ہلاکتوں کے بعد احتجاجی مظاہرے معمول کی بات ہیں

کراچی میں حکومت کے قائم کردہ بحرانی حالات پر قابو پانے کے لئے اقدامات کے سیل کی فراہم کردہ معلومات کے مطابق جون کا مہینہ پاکستان کے اس شہر کے لئے سال رواں کا بدترین مہینہ ثابت ہوا۔

گزشتہ ماہ پاکستان کے سب سے زیادہ آبادی والےا س شہر میں 200 سے زائد افراد کو قتل کر دیا گیا جبکہ مئی میں یہ تعداد 90 اور اپریل میں 84 رہی تھی۔ دوسری طرف 2010 کی دوسری ششماہی کے آغاز پر جولائی کے صرف پہلے ہفتے میں کراچی میں 26 افراد موت کی گھاٹ اتار دئے گئے۔

Karachi Pakistan

کراچی دہشت گردانہ حملوں سے تو زیادہ تر بچا ہوا ہے مگر گروہی بنیادوں پر قتل کے مسلسل واقعات سے نہیں

کراچی پولیس کے سربراہ وسیم احمد نے ان واقعات کے پس منظر میں ڈوئچے ویلے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کراچی شہر میں ہونے والا ہر جان لیوا واقعہ ٹارگٹ کلنگ نہیں ہوتا لیکن عمومی تاثر ہمیشہ یہی دیا جاتا ہے۔

وسیم احمد کا دعویٰ ہے کہ گزشتہ چند دنوں میں لسانی یا فرقہ ورانہ کشیدگی کے باعث کراچی میں کوئی انسان ہلاک نہیں ہوا۔ سندھ کے صوبائی دارالحکومت کراچی میں پانچ چھ افراد کی ہلاکت روز کا معمول ہے۔ دوسری جانب ایدھی ٹرسٹ سے وابستہ انور کاظمی کا کہنا ہے کہ ماضی میں سال کے اختتام پر قتل کی وارداتوں کی تعداد مشکل سے 200 تک پہنچتی تھی مگر اب تو روشنیوں کے اس شہر میں اتنے افراد صرف ایک مہینے میں قتل کر دئے جاتے ہیں۔

انور کاظمی کا کہنا ہے کہ شہر میں ٹارگٹ کلنگ کے علاوہ صوبہ سندھ کے دیگر شہروں میں قتل کی آئے روز کی وارداتوں کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ انسانی ہلاکتوں کے ان مجرمانہ واقعات کی روک تھام میں ناکامی اس بات کا ثبوت ہے کہ اس حوالے سے حکومت کی کارکردگی کیسی رہی ہے۔ ’’صوبائی گورنر اور وزیر اعلیٰ تمام تر دعووں کے باوجود شہر میں ہدف بناکر قتل کرنے کی وارداتوں پر قابو پانے میں ناکام رہے ہیں۔‘‘

کراچی میں قتل کے ایسے واقعات کی روک تھام کے لئے منگل اور بدھ کی درمیانی رات بھی گورنر ہاؤس میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس ہوا تھا مگر اس اجلاس کے محض چند گھنٹے بعد ہی شہر کے مغربی علاقے میں ایک تازہ واقعے میں چار افراد کو فائرنگ کرکے ہلاک کردیا گیا۔

رپورٹ: رفعت سعید

ادارت: عصمت جبیں

DW.COM