1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کراچی میں ٹارگٹڈ آپریشن کر رہے ہیں، رحمان ملک

پاکستانی وزیرداخلہ رحمان ملک نے خبردار کیا ہے کہ کراچی میں جس گھر سے فائرنگ کی گئی، اس کے مکینوں کو باہر نکال کر گھر مسمار کر دیا جائے گا۔ انہوں نے یہ بات ڈوئچے ویلے کے ساتھ خصوصی بات چیت بھی کہی۔

default

کراچی میں ڈوئچے ویلے کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں پاکستانی وزیر داخلہ رحمان سے جب پوچھا گیا کہ کرچی کا اصل مسئلہ کیا ہے اور ان واقعات میں کون لوگ ملوث ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ کراچی میں بد امنی کی متعدد وجوہات ہیں، لیکن تین اہم وجوہات حالات کی خرابی کا سبب ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان میں لسانی، فرقہ بندی اور سیاسی وجوہات اہم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ بحیثیت وزیر داخلہ ان تینوں محرکات کا جائزہ لے کر شہر کے مخلتف علاقوں میں ٹارگٹڈ آپریشن کر رہے ہیں، جس کی وجہ سے ہدف بنا کر قتل کرنے کی وارداتوں میں واضح کمی ہوئی ہے۔

Pakistan Innenminister Rehman Malik

پاکستانی وزیر داخلہ رحمان ملک

ان کا کہنا ہے کہ دہشتگردوں سے نمٹنے کے لیے بد امنی کے شکار علاقوں کی تصاویر گوگل ویب سائٹ سے لے کرفوری کارروائی کی جائے گی۔

ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر نے بتایا کہ کراچی میں ٹارگٹ کلنگ میں ملوث کئی افراد کو گرفتار کیا گیا ہے جن میں سے کئی کا تعلق سیاسی جماعتوں سے ہے۔ تاہم انہوں نے سیاسی جماعتوں کے نام لینے سے گریز کیا۔ رحمان ملک کا کہنا تھا کہ انہوں نے کراچی میں وزارت داخلہ کے کیمپ آفس میں کنٹرول رُوم قائم کر کے گوگل اور رینجرز کے ہیلی کاپٹر کے ذریعے فضائی نگرانی سے حاصل ہونے والی معلومات کو یکجا کرنے کے بعد پولیس، رینجرز، ایف سی اور خفیہ اداروں کے باہمی رابطوں کے ذریعے دہشتگردوں کا خاتمہ کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ لینڈ مافیا، ڈرگ مافیا اور اسلحہ مافیا سیاسی جماعتوں سے رابطے بڑھا کر تحفظ حاصل کرتے ہیں۔ وزیرداخلہ رحمان ملک نے کہا کہ جرائم پیشہ افراد کا تعلق کسی بھی سیاسی یا لسانی جماعت سے ہو، انہیں بخشا نہیں جائے گا۔

کراچی میں بڑے پیمانے پر غیر قانونی اسلحہ کی موجودگی کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال پر وزیرداخلہ نے کہا کہ کراچی میں اسلحے کے انبار ہیں، لوگوں نے ایک لائسنس پر کئی کئی ہتھیار خرید رکھے ہیں۔ لہٰذا وزارت داخلہ نے فیصلہ کیا ہے کہ ایسے تمام اسلحہ لائسنس 31 اگست تک منسوخ کر دیے جائیں گے۔

انہون نے بتایا کہ یکم ستمبر سے صرف نادار کے کمپیوٹرائزڈ لائسنس ہی قابل قبول ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی جعلی لائسنس کے ساتھ پکڑا گیا تو اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی اور ایسے افراد کو سات سے چودہ سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔

پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر سیاسی دباؤ کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیرداخلہ رحمان ملک کا کہنا تھا کہ وہ نہیں سمجھتے کہ یہ بات درست ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلاتخصیص ہر سیاسی جماعت خواہ وہ حکومت کی اتحادی ہو کے خلاف کارروائی کے احکامات دے گئے ہیں۔

بلدیاتی نظام کی تبدیلی اور اتحادی جماعت ایم کیو ایم کی ناراضگی کے بارے میں رحمان ملک کا کہنا تھا کہ پاکستان کی سالمیت اور استحکام سب پر مقدم ہے۔ انہوں نے کہا کہ مزید صوبے بنانے پر آئین میں کہیں پابندی نہیں ہے، لیکن حکومت اپنا ہر فیصلہ عوام کی امنگوں اور خواہشوں کے مطابق ہی کرے گی۔

Unruhen in Karachi

متاثرہ علاقوٓں کی گوگل سے تصاویر لے رہے ہیں، رحمان ملک

رحمان ملک سے پوچھا گیا کہ بحیثیت وزیرداخلہ ان کے اقدامات سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کی کوششوں کا مقصد مسلم لیگ ن اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کی گرینڈ الائنس کا قیام روکنا تھا۔ رحمان ملک نے اس سوال کے جواب میں کہا کہ سیاسی مخالفین اس سے قبل بھی حکومت کا خاتمہ کرنے کی کوشش کر چکے ہیں مگر عوام نے حکومت کو پانچ سال کا مینڈیٹ دیا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ مخالفین کے خواب دھرے کے دھرے رہ جائیں گے، ایسے خواب وہی سیاستداں دیکھتے ہیں، جو شیروانی سلوا کر جمہوریت اور جمہوری نظام کے خاتمے کا انتظار کرتے ہیں۔

رپورٹ: رفعت سعید، کراچی

ادارت: ندیم گِل

DW.COM

ویب لنکس