1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کراچی میں نوجوان کی ہلاکت پر پیراملٹری فورس تنقید کی زد میں

کراچی میں رینجرز کے ہاتھوں ایک نوجوان کی ہلاکت کے بعد اس پیراملٹری فورس کے خلاف ایک نیا تنازعہ کھڑا ہوگیا ہے۔ نوجوان کی ہلاکت کے اس واقعے کی فلم مقامی ٹیلی وژن پر نشر کی گئی۔

default

پاکستانی حکام کے مطابق رینجرز کے ان اہلکاروں کے خلاف تفتیش جاری ہے جنہوں نے مبینہ طور پر اس نوجوان کو حراست میں لینے کے بعد گولی مارکر ہلاک کردیا۔ رینجرز کے ہاتھوں نوجوان کی ہلاکت کے اس واقعے کی وڈیو ایک مقامی ٹیلی وژن پر نشر کی گئی۔ یہ وڈیو اور تصاویر سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹس اور وڈیو شیئرنگ ویب سائٹ یو ٹیوب پر لوگوں نے بڑی تعداد میں شیئر کی جو لوگوں میں شدید غم وغصہ کا باعث بنا۔ پاکستان رینجرز شدید تنقید کی زد میں ہے۔

وڈیو میں سادہ کپڑوں میں ملبوس ایک اہلکار کو نوجوان کو پکڑ کر رینجرز کی ایک گاڑی کے پاس لاتے دکھایا گیا ہے، جہاں موجود متعدد دیگر اہلکار اس نوجوان پر اسلحہ تان لیتے ہیں۔ وڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ نوجوان رینجرز اہلکاروں کی منت سماجت کر رہا ہے۔ وہ ایک اہلکار کی طرف سے اس کی طرف تانی گئی رائفل کا رخ ہاتھ سے نیچے کرنے کی بھی کوشش کرتا ہے۔ وہاں موجود ایک اہلکار اپنے ساتھی کو بار بار یہ کہتے سنا جاسکتا ہے کہ اس کو مارو۔ جواباﹰ وہ اہلکار اس نوجوان کی ٹانگوں پر متعدد گولیاں مارتا ہے۔ فائرنگ کے بعد نوجوان رینجرز اہلکاروں کی منت کرتے سنا جاسکتا ہے کہ اسے ہسپتال پہنچایا جائے۔

نوجوان کی ہلاکت کے باعث رینجرز شدید تنقید کی زد میں ہے

نوجوان کی ہلاکت کے باعث رینجرز شدید تنقید کی زد میں ہے

پیرا ملٹری رینجرز کے ایک ترجمان کے مطابق اہلکاروں نے ایک 18 سالہ نوجوان سرفراز شاہ کو اس وقت حراست میں لیا جب وہ پارک میں موجود لوگوں کو لوٹنے کی کوشش کر رہا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ نوجوان کے قبضے سے ایک پستول برآمد ہوا۔ مزید یہ کہ نوجوان کو اس وجہ سے گولی ماری گئی کیونکہ وہ ایک اہلکار کی رائفل تک پہنچنے کی کوشش کر رہا تھا۔

ہلاک ہونے والے نوجوان کے بھائی سالک شاہ نے جو ایک مقامی کرائم رپورٹر ہے، اپنے بھائی کے ڈاکو ہونے کی تردید کرتے ہوئے رینجرز پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے بے گناہ شخص کو فائرنگ کرکے ہلاک کیا ہے۔

رینجرز اور پولیس کی جانب سے کہا گیا ہے کہ وہ اس واقعے کی تفتیش کر رہے ہیں۔

رپورٹ: افسر اعوان

ادارت: کشور مصطفیٰ

DW.COM

ویب لنکس