1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کراچی میں فائرنگ سے سعودی سفارتکار ہلاک

آج پیر کو کراچی میں سعودی قونصل خانے کے قریب ایک سعودی سفارتکار کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ پاکستان کے اس سب سے بڑے شہر میں ایک ہفتے سے بھی کم عرصے میں سعودی عرب کے خلاف یہ اپنی نوعیت کا دوسرا حملہ ہے۔

default

سعودی سفارت خانے کے ذرائع ابلاغ سے متعلقہ شعبے کے ایک عہدیدار نے تصدیق کی ہے کہ مرنے والا سعودی شہری ایک سفارتکار تھا۔ اِس سے پہلے ایک اور عہدیدار نے بتایا تھا کہ مرنے والا ایک سکیورٹی اہلکار تھا، جو کراچی کے سعودی قونصل خانے کے لیے کام کر رہا تھا۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے کراچی پولیس کے حوالے سے بتایا ہے کہ یہ سعودی سفارتکار سفارتی نمبر پلیٹ والی ایک کار ڈرائیو کرتے ہوئے غالباً اپنی رہائش گاہ سے قونصل خانے کی جانب جا رہا تھا، جب دو موٹر سائیکلوں پر سوار چار نامعلوم مسلح افراد نے ایک چوک میں اُس پر فائرنگ شروع کر دی۔ کچھ ذرائع کے مطابق مرنے والے کا نام حسن القحطانی تھا اور وہ کراچی کے اِس سعودی سفارتی مشن کا سربراہ تھا۔

چار سدہ کے حالیہ ہولناک خود کُش حملے کو بھی بن لادن کی ہلاکت کا بدلہ قرار دیا گیا تھا

چار سدہ کے حالیہ ہولناک خود کُش حملے کو بھی بن لادن کی ہلاکت کا بدلہ قرار دیا گیا تھا

صوبہء سندھ کی پولیس کے سربراہ فیاض لغاری نے مزید بتایا کہ سعودی قونصل خانے کا یہ عہدیدار متعدد گولیاں لگنے سے موقع پر ہی ہلاک ہو گیا جبکہ حملہ آور اپنی موٹر سائیکلوں پر فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔

صوبائی وزارتِ داخلہ کے ایک عہدیدار شرف الدین میمن نے بتایا کہ یہ سعودی شہری قونصل خانے میں جونیئر افسر تھا۔ اُنہوں نے دو مئی کو ایبٹ آباد میں امریکی خصوصی یونٹ سیلز کے ہاتھوں القاعدہ کے سعودی نژاد سربراہ اُسامہ بن لادن کی ہلاکت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا:’’ہم اس بات کی تحقیقات کر رہے ہیں کہ آیا اِس واقعے کا تعلق ایبٹ آباد آپریشن سے ہے یا یہ کوئی الگ واقعہ ہے۔‘‘

اُسامہ بن لادن سعودی عرب میں پیدا ہوئے تھے اور اُن کی تنظیم القاعدہ سعودی حکومت کی سخت مخالف ہے

اُسامہ بن لادن سعودی عرب میں پیدا ہوئے تھے اور اُن کی تنظیم القاعدہ سعودی حکومت کی سخت مخالف ہے

سعودی سفیر عبدالعزیز الغدیر نے خبر رساں ادارے روئٹرز سے باتیں کرتے ہوئے کہا:’’ہم اِس حملے کی مذمت کرتے ہیں۔ جس کسی نے بھی یہ حملہ کیا ہے، وہ مسلمان نہیں ہو سکتا۔‘‘

گزشتہ بدھ کو نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے کراچی ہی میں قونصل خانے کی عمارت کے پاس سے گزرتے ہوئے اِس عمارت کی جانب دو گرینیڈز پھینکے تھے۔ اِس واقعے کو، جس میں کوئی شخص ہلاک یا زخمی نہیں ہوا تھا، ممکنہ طور پر بن لادن کی ہلاکت پر رد عمل قرار دیا جا رہا تھا۔

واضح رہے کہ القاعدہ تنظیم سعودی حکومت کی سخت مخالف ہے اور اُس نے اپنے قائد اُسامہ بن لادن کی موت کا بدلہ لینے کا عزم ظاہر کیا ہے۔

رپورٹ: امجد علی

ادارت: کشور مصطفیٰ

DW.COM

ویب لنکس