1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کراچی میں سندھ ایپکس کمیٹی کا اجلاس

منگل کے دن ہی کراچی میں سندھ ایپکس کمیٹی کا اجلاس منعقد کیا گیا۔ اس اجلاس کی مشترکہ صدارت وزیر اعلٰی قائم علی شاہ اور گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد نے کی۔

Pakistan - Karachi

اس اجلاس میں کراچی کی صورتحال پر بھی غور کیا گیا

اس اجلاس کے دوران دونوں جماعتوں کے بیانات اور احتجاج کے برخلاف دونوں بڑوں نے صرف اور صرف کراچی میں جاری آپریشن کے مثبت اثرات پر توجہ مرکوز رکھی۔ اس دوران کراچی میں دوبارہ سر اٹھاتی ٹارگیٹ کلنگ کی وارداتوں پر بھی گفتگو ہوئی ۔

دوسری طرف عالمی یوم جمہوریت کے موقع پر پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری نے دبئی سے جاری پیغام میں کہا ہے کہ شدت پسندی اور کرپشن کے خلاف جنگ قابل تعریف ہے لیکن کسی کو آئینی حدود پار نہیں کرنی چاہیے۔

DW.COM

سابق صدر پاکستان آصف علی زرداری کے بقول طاقتور اداروں کا دوسرے اداروں میں مداخلت اور آئینی حدود پار کرنا جمہوریت کے لیے انتہائی خطرناک ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جمہوریت کے دشمن جمہوریت کو نقصان پہنچانے کے طریقے تبدیل کر رہے ہیں۔ جس وقت آصف زرداری کا یہ بیان جاری ہوا اس کے چند گھنٹے بعد سندھ حکومت نے بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے کراچی کے لیے 150 ارب روپے کے ترقیاتی پیکج کا اعلان کردیا۔

وزیر بلدیات ناصر شاہ نے ڈوئچے ویلے سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اس پیکج میں سب سے زیادہ ترجیح پینے کے پانی کے مسائل حل کرنے پر دی گئی ہے اور شفافیت کو برقرار رکھنے کے لیے پیکج کی نگرانی کے لیے ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی جائے گی۔ وزیر اعلٰی سندھ کی نگرانی میں کام کرنے والی مانیٹرنگ کمیٹی میں دیگر سیاسی جماعتوں، سول سوسائٹی کی مقتدر شخصیات اور میڈیا شخصیات کو بھی شامل کیا جائے گا۔

تجزیہ نگاروں کے رائے میں جس سیاسی جماعت کی تاریخ میں بلدیاتی انتخابات کا وجود ہی نہ ہو اور وہ جماعت باحالت مجبوری بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کرا رہی ہو تو بلدیاتی انتخابات سے قبل ترقیاتی پیکج کے اعلان کا مقصد تو واضح ہے۔

بلدیاتی امور کے ماہر سید امین حسین کہتے ہیں کہ پیکج کے منصوبوں پر علمدرآمد پر کراچی میں بلدیاتی انتخابات کا مرحلہ شروع ہو جائے گا، لہذا اس پیکج کو سیاسی رشوت سے تعبیر کیا جاسکتا ہے۔ لیکن اس بار کراچی کے بلدیاتی انتخابات میں ایم کیو ایم کے علاوہ جماعت اسلامی اور تحریک انصاف بھی بہت سرگرم ہیں اور پیپلز پارٹی کے لیے تنہا یہ میدان مارنا ناممکن ہے۔

ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی کے احتجاج کے صرف بیانات تک محدود ہونے کی اصل وجہ اندرونی انتشار ہے۔ کئی برس سے وزیر اعلٰی سندھ کے اختیارات استعمال کرنے والی آصف زرداری کی ہمشیرہ فریال ٹالپر حالات کی نزاکت کو بھانپ گئی ہیں اور سندھ حکومت کی کارگزاری کی ذمہ داری قائم علی شاہ کے ناتواں کندھوں پر ڈالنے کی کوششوں میں مصروف ہیں جبکہ پیپلز پارٹی کی مضبوط سمجھی جانے والی سید برادری قائم علی شاہ کے پیچھے کھڑی ہے۔

سینئر صحافی مظہر نے آصف زرداری کے بیان پر تبصرہ کیا کہ پاکستانی سیاستدان خود جمہوریت کے دشمن دکھائی دیتے ہیں، ’’جمہوریت کتنی ہی کمزور ہو اس میں رہتے ہوئے اختلاف رائے بھی کیا جاسکتا ہے اور احتجاج بھی لیکن آمریت میں یہ سہولیات حاصل نہیں۔‘‘

سیاستدانوں اور حکومتی معاملات میں کرپشن کے حوالے سے مظہر عباس نے تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ سن 1977 کے بعد آنے والے سیاستدانوں میں مالی کرپشن کا رجحان بڑھا ہے اور سیاستدانوں کو کرپٹ کرنے میں اسٹبلشمنٹ کا اہم کردار ہے، ’’اسی وجہ سے طالع آزماوں کو سیاستدانوں کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنے میں آسانی ہوتی ہے، جبکہ اسٹبلشمنٹ نے احتساب کی تلوار کے ذریعے سیاسی داروں کو مستحکم نہیں ہونے دیا۔‘‘

دوسری طرف متحدہ قومی موومنٹ ایک بار پھر مشکل حالات میں ہے۔ کراچی میں امن کے لیے شروع کیا جانے والا آپریشن آخر کا اس سیاسی جماعت کے مرکز تک آ پہنچا ہے اور اس پارٹی کے کارکنوں کی گرفتاریوں کے بعد اب بات مبینہ پولیس مقابلوں میں ہلاکت تک آگئی ہے۔

مبصرین کہتے ہیں کہ ایم کیو ایم ماضی میں کئی بار ایسے حالات کا سامنا کرچکی ہے مگر اس بار حالات صرف مشکل نہیں بلکہ مشکل ترین دکھائی دے رہے ہیں اور اس کی وجہ ایم کیو ایم کے اندر کی ٹوٹ پھوٹ ہے۔ بابر خان غوری، فیصل سبزواری اور واسع جلیل سمیت کئی اہم رہنما عملاٰ پارٹی سے الگ ہوچکے ہیں۔ الطاف حسین کے بیانات پر پابندی کے باعث کارکنوں کو متحد رکھنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔