1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کراچی میں سعودی سفارت کار کا قتل، طالبان نے ذمہ داری قبول کر لی

کراچی کے پوش علاقے میں ہونے والی دہشت گردی میں ایک سعودی سفارت کار جاں بحق ہو گیا ہے۔ سفارت کارکا قتل اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد پاکستان میں سعودی عرب کے خلاف دہشت گردوں کی دوسری کارروائی ہے۔

default

پیر کی صبح ڈیفنس ہاوسنگ اتھارٹی کے خیابان شہبازکے تجارتی علاقے میں نامعلوم دہشت گردوں نے سعودی سفارت کار حسن القحطانی کی کار نمر سی سی باون چونسٹھ پر اندھا دھند فائرنگ کی جس کے باعث وہ موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے۔ پولیس حکام کے مطابق مقتول حسن القحطانی کراچی میں قائم سعودی قونصل خانہ میں شعبہ تحفظ میں تعینات تھے اور واقعہ کے وقت اپنے گھر سے قونصل خانہ جارہے تھے کہ راستے میں دہشت گردوں نے انہیں نشانہ بنایا۔

سعودی سفارت کار کے قتل سے انتہا پسند تنظیموں کی جانب سے ملنے والی ان دھمکیوں کو حقیقت کا روپ ملنا شروع ہو گیا ہے، جن میں دہشت گردوں نے القاعدہ کے سربراہ اسامہ بند لادن کے قتل کا بدلہ لینےکے لیے سفارت کاروں کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کا اظہار کیا تھا۔

دو مئی کو ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد پاکستانی حکام کی جانب سے دہشت گردی کی وارداتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہرکیا جارہا تھا اور دس مئی کو وفاقی وزارت داخلہ نے تمام صوبوں کو ایک مراسلہ کے ذریعے آگاہ بھی کردیا تھا کہ کالعدم تحریک طالبان امریکی شہریوں سمیت دیگر ممالک کے سفارت کاروں اور شہریوں پرحملوں کے منصوبے بنارہی ہے۔ گذشتہ ہفتے بھی کراچی میں سعودی قونصل خانہ پر دستی بموں سے حملے کیے گئے تھے۔ تاہم خوش قسمتی سے ان حملوں میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔ مگر آج ہونے والی دہشت گردی نے پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی کے حوالے سے کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔

کراچی میں ماضی میں بھی دہشت گرد سفارت کاروں کو نشانہ بناتے رہے ہیں اور دو ہزار پانچ میں امریکی قونصل خانہ کے قریب سفارت کار ڈیوڈ فوئے کو ایک خودکش حملہ آور نے قتل کیا تھا۔ تاہم سعودی عرب کے سفارت کاروں کے لیے کراچی اور پاکستان کے دیگر شہر محفوظ تصور کیے جاتے تھے لیکن آج ہونے والے حملے نے اس تصورکو بھی تبدیل کردیا ہے۔

دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق سعودی عرب کے خلاف ہونے والی یہ دہشت گردوں کسی نئی حکمت عملی کی جانب اشارہ کرتی ہے۔ ایک تو پاکستان اور سعودی عرب کے گہرے تعلقات ہیں اور سعودی عرب نے ہرکڑے وقت پر پاکستان کا بھر پور ساتھ دیا ہے۔ دوسرا ان دونوں ممالک کے امریکہ سے تعلقات کے باعث دہشت گرد اپنی کارروائیوں کے ذریعے پاک سعودیہ تعلقات پر کاری ضرب لانے کے لیے کوشاں ہیں تو دوسری جانب اس کا اثر پاکستان اور امریکہ کے تعلقات پر بھی ہو گا۔

سابق سفارت کاروں کے مطابق دہشت گرد دنیا کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ پاکستان ان کے لیے بھی غیر محفوظ ملک ہے۔ اس طرح وہ پاکستان کو دنیا میں تنہا کرنے کی کوشش بھی کررہے ہیں۔ سعودی سفارت کار کی ہلاکت کے بعد کراچی میں سفارت کاروں اور غیر ملکی شہریوں کی حفاظت کے لیے اعلٰی سطح پر انتظامات کیے جارہے ہیں۔ پہلے مرحلے میں آئی جی سندھ فیاض لغاری نے کراچی میں تعینات سعودی قونصل جنرل کے ہمراہ میٹنگ کر کے سفارت کاروں کی حفاظت کے لیے نئی منصوبہ بندی کی ہے جبکہ اگلے مرحلے میں دیگر ممالک کے سفارت کاروں کے لیے بھی اقدامات کیے جائیں گے۔

رپورٹ: رفعت سعید

ادارت: عدنان اسحاق