1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کراچی میں خودکُش دھماکے، کم از کم آٹھ افراد ہلاک

کراچی میں صوفی بزرگ عبداللہ شاہ غازی کے مزار پر ہوئے دو خود کش بم دھماکوں میں ہلاک شدگان کی تعداد دس ہو گئی ہے۔ تحریک طالبان پاکستان نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

default

حکام کے مطابق مزار کے مرکزی دروازے پر ہوئے ان سلسلہ وارخود کش بم دھماکوں کے نتیجے میں پچاس سے زائد افراد زخمی بھی ہو گئے ہیں۔ آٹھویں صدی میں تعمیر کئے گئے اس ممتازصوفی بزرگ کے مزار پر بم حملے اس وقت ہوئے جب سینکڑوں کی تعداد میں عقیدت مند وہاں جمعرات کی روایتی اجتماعات کے لئے جمع تھے۔ اس حملے میں خواتین اور بچے بھی نشانہ بنے۔ صوبہ سندھ کے وزیر صحت ڈاکٹر صغیر احمد نے ہلاکتوں کی تصدیق کر دی ہے۔

بتایا گیا ہے کہ دھماکوں کے بعد امدادی ٹیمیں فوری طور پر وقوعہ پر پہنچ گئیں اور زخمیوں کو قریبی ہسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا۔ جناح ہسپتال کی سینئر میڈیکل افسر سیمی جمالی نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ وہاں کم ازکم 65 زخمی لائے گئے۔ انہوں نے بتایا کی زخمیوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، جن میں سے کئی کی حالت تشویشناک ہے۔

ایک عینی شاہد محمد آصف نے جرمن خبررساں ادارے ڈی پی اے کو اس حملے کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ ایک خود کش حملہ آور نے مزار کے دروازے پر پہنچ کر خود کو دھماکہ خیز مواد سے اڑا دیا جبکہ اس حملے کے فورا بعد ہی دوسرا خود کش بمبار مرکزی دروازے کی سیڑھیاں چڑھ کر احاطے میں داخل ہونے کی کوشش میں ہی دھماکہ کر بیٹھا،’شکر خدا کا کہ وہ احاطے میں داخل نہ ہوسکا اور اس نے خود کو سیڑھیوں پر ہی دھماکہ خیز مواد سےاڑا دیا، اگر وہ اندر آجاتا تو بہت بڑا جانی نقصان ہوتا۔‘

Pakistan Stadt Karachi Alltag Polizeiwagen

کراچی کے حساس مقامات پر سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے

تحریک طالبان پاکستان کے نائب ترجمان احسن اللہ اسہان نے نامعلوم جگہ سے فون کرکے ڈی پی اے کو بتایا ہے کہ صوفی بزرگ کے مزار پر جو لوگ جمع تھے وہ بریلوی مسلک سے تعلق رکھتے تھے’انہوں نے ہماری مخالفت کی اور حکومت کا ساتھ دیا۔ اس لئے ہم نے ان پر حملہ کیا۔‘

سندھ کی صوبائی حکومت نے کراچی میں واقع تمام مزاروں کو تین روز کے لئے بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔ صوبائی وزارت داخلہ کی طرف سےجاری کئے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ کراچی کے تمام مزاروں کو عقیدت مندوں کے لئے اس لئے عارضی طور پر بند کیا جا رہا ہے تاکہ ممکنہ دہشت گردی سے نمٹنے کے لئے مناسب اقدامات اٹھائے جا سکیں۔

دریں اثناء کراچی میں صوفی بزرگ عبداللہ شاہ غازی کے مزار پر ہوئے دو خود کش بم دھماکوں کے فوری بعد ہی مشتعل عوام نے اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے سڑکوں پر احتجاج کیا۔ اسی دوران کراچی میں ممکنہ بد امنی سے بچنے کے لئے احتیاطی تدابیر اٹھا لی گئیں ہیں۔ فرقہ ورانہ یا نسلی بنیادوں پر فسادارت کے حوالے سے کراچی ایک حساس شہر سمجھا جاتا ہے۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: ندیم گِل

DW.COM