1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کراچی میں جعلی ادویات کی فروخت: چھاپے اور گرفتاریاں

کراچی میں بڑے پیمانے پر جعلی ادویات کی فروخت کے انکشاف کے بعد وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے نے شہر کے مختلف مقامات پر چھاپے مار کر کئی میڈیکل اسٹور سر بمہر کر دئے۔

default

جعلی ادویات کا کاروبار، منافع کی خاطر انسانی قتل کے مترادف

ایف آئی اے کرائمز سرکل ون کے ڈپٹی ڈائریکٹر اکبر بلوچ نے ڈوئچے ویلے کو بتایا کہ شہر میں فروخت ہونے والی کئی ادویات لاہور اور کوئٹہ میں غیر معیاری طریقوں سے تیاری کے بعد کراچی لائی جا رہی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش کی روشنی میں شہر میں کئی مقامات پر چھاپے مار کر متعدد میڈیکل اسٹوروں سے غیر معیاری اور بیرون ملک سے اسمگل کردہ ممنوعہ ادویات کو تحویل میں لے کر ان دکانوں کو سیل کر دیا گیا ہے۔

ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس مجرمانہ کاروبار میں ملوث عناصر خاصے با اثر ہیں۔ یہ لوگ بھاری رقوم دے کر کامیاب وکلاء کی خدمات حاصل کرتے ہیں اور ضمانتوں پر رہا ہو جاتے ہیں۔ اکبر بلوچ نے بتایا کہ ڈرگ ایکٹ 1976 کے تحت کوئی بھی ڈرگ انسپکٹر صرف جعلی اور غیر معیاری ادویات ضبط کر سکتا ہے اور ایسی ادویات فروخت کرنے والوں کے خلاف کارروائی کے لئے ڈرگ انسپکٹروں کو ایف آئی اے کی خدمات درکار ہوتی ہیں۔

Bayer Werk Leverkusen Schornsteine

ترقی پذیر ملکوں میں جعلی ادویات کی تیاری اور فروخت سے ملٹی نیشنل دواساز اداروں کو بھی نقصان ہوتا ہے

جعلی ادویات اور ان کی فروخت پر نظر رکھنے کے لئے حکومت نے صوبائی اور وفاقی سطح پر ڈرگ انسپکٹر مقرر کر رکھے ہیں مگر افسوسناک بات یہ ہے کہ ملک بھر میں جعلی، غیر معیاری اور زائد المیعاد ادویات کی فروخت کی روک تھام کرنے والے یہ ڈرگ انسپکٹر بھاری رشوتوں کے عوض جعلسازوں کے خلاف کارروائی سے دانستہ گریز کرتے ہیں۔

Flash-Galerie Symbolbild Kriminalität

اکثر واقعات میں ملزمان ضمانتوں پر رہا ہو جاتے ہیں

یہی وجہ ہے کہ ادویات تیار کرنے والی ملٹی نیشنل کمپنیوں کی بار بار کی شکایات کے باوجود نہ تو جعلی ادویات فروخت کرنے والے میڈیکل اسٹوروں کے مالکان کے خلاف دیرپا کارروائی ہو رہی ہے اور نہ ہی ایسی نقلی ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کے خلاف۔

ڈرگ انسپکٹرز کا کہنا ہے کہ انہیں جب بھی کوئی اطلاع ملتی ہے، وہ اس جرم میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائی کرتے ہیں۔ حیران کن بات یہ ہے کہ شہریوں کو غیر معیاری اور زائد المیعاد ادویات فروخت کرنے والے کسی بھی میڈیکل اسٹور یا کمپنی کا تجارتی لائسنس ابھی تک منسوخ نہیں کیا گیا۔ ابھی حال ہی میں سندھ ہائی کورٹ نے بھی یہ حکم دیا ہےکہ غیر معیاری ادویات کی فروخت جیسے سنگین جرم میں ملوث عناصر کے خلاف ذیلی عدالتیں کوئی نرم رویہ اختیار نہ کریں۔ ہائی کورٹ نے ایسی ادویات کو جانچنے کے لئے لیبارٹریوں میں جدید آلات کے دستیاب نہ ہونے کا بھی سختی سے نوٹس لیا ہے۔

رپورٹ: رفعت سعید، کراچی

ادارت: عصمت جبیں

DW.COM

ویب لنکس