1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

کراچی میں جرائم کی شرح میں برق رفتار اضافہ

پاکستان کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت کے حامل کراچی پر آبادی کے بڑھتے دباؤ کے باعث نہ صرف پرانے مسائل سنگین صورت اختیار کرتے جا رہے ہیں بلکہ جرائم کی شرح میں برق رفتار اضافے نے بھی شہریوں کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔

کراچی میں جرائم ایک معمول

کراچی میں جرائم ایک معمول

آبادی کے اعتبار سے کراچی کا شمار دنیا کے بڑے شہروں میں کیا جاتا ہے۔ یہ شہر اپنے جغرافیائی محل وقوع کے باعث قیام پاکستان سے قبل غیر منقسم ہندوستان میں بھی کاروباری لحاظ سے غیر معمولی حیثیت کا حامل تھا۔ پاکستان کے وجود میں آنے کے بعد تو اس شہر کی حیثیت پاکستان کی معیشت کے لیے لازم و ملزوم کی سی ہوگئی اور یہی وجہ ہے کہ کراچی کو منی پاکستان بھی کہا جاتا ہے۔

قیام پاکستان کے وقت ملک کی واحد بندرگاہ کے حامل اس شہر نے دن دگنی رات چوگنی ترقی کی اور دیکھتے ہی دیکھتے مچھیروں کی چھوٹی سے بستی روشنیوں کا شہر بن کر دنیا کے نقشے پر ابھری۔ روزگار کے بہتر مواقع کے باعث نہ صرف ملک کے دیگر حصوں بلکہ دیگر ممالک مثلاً سری لنکا، فلپائن، بنگلہ دیش، ایران، برما اور بعض افریقی ریاستوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے بھی بڑی تعداد میں کراچی کا رخ کرنا شروع کر دیا۔

دن میں سو سے زائد موبائل چھن جانا، دو درجن کاریں اور اتنی ہی موٹر سائیکلیں چھننا اور چوری ہونا ایک معمول بن چکا ہے

دن میں سو سے زائد موبائل چھن جانا، دو درجن کاریں اور اتنی ہی موٹر سائیکلیں چھننا اور چوری ہونا ایک معمول بن چکا ہے

آبادی کے بڑھتے دباؤ اور سابق حکمرانوں کی غلط منصوبہ بندی کے باعث جہاں ملک بھر میں اسلحے کی فراوانی کی وجہ سے دہشت گردی جیسے سنگین مسائل پیداہوئے، وہیں افغان جنگ کے منفی اثرات نے بھی نہ صرف کراچی میں آباد لوگوں بلکہ یہاں آنے والوں کو بھی جرائم کی راہ پر گامزن کیا۔ رہی سہی کسر غربت اور بے روزگاری کے اضافے نے پوری کر دی۔ مسائل میں گھرے کراچی میں نوبت یہاں تک آن پہنچی ہے کہ دن میں سو سے زائد موبائل چھن جانا، دو درجن کاریں اور اتنی ہی موٹر سائیکلیں چھننا اور چوری ہونا ایک معمول بن چکا ہے۔

کراچی میں امن و امان کی خراب صورت حال کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ شہر میں ٹریفک جام کے دوران بھی سڑکوں پر مسلح لٹیرے دندناتے ہوئے اسٹریٹ کرائم کی وارداتیں کر کےرفو چکر ہو جاتے ہیں۔

ملک کے دیگر حصوں کی طرح کراچی بھی بجلی کے شدید بحران کا شکار ہے مگر ملک کے دوسرے شہروں کے مقابلے میں یہاں صورت حال اس حوالے سے گمبھیر ہے کہ بجلی کی عدم فراہمی کے خلاف ہونے والے احتجاج کے باعث بھی جرائم خصوصاَ اسٹریٹ کرائم مزید بڑھ جاتے ہیں، جس کا اعتراف پولیس کے سربراہ بھی کرتے ہیں۔

گذشتہ بیس سالوں کے دوران کراچی میں ہونے والے چند مخصوص جرائم کی وارداتوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ ایسا ہی ایک جرم اغوا برائے تاوان ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق 1990ء میں اغوا برائے تاوان کی کل 89 وارداتیں ہوئیں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے 68 افراد کو بازیاب کرایا جبکہ وارداتوں میں ملوث کئی بڑے گروہوں کا خاتمہ کیا گیا۔ لیکن رواں برس کے ابتدائی چھ ماہ میں اغوا برائے تاوان کی وارداتوں کی تعداد چوالیس تک پہنچ چکی ہے اور پولیس صرف سات مقدمت کو حل کر کے ملزمان کو گرفتار کر سکی ہے۔

پولیس کو نہ صرف جدید آلات سے لیس کیا جانا بلکہ اسے سیاسی دباؤ اور بدعنوانی جیسی بیماریوں اورکالی بھیڑوں سے بھی پاک کرنا ضروری ہے۔

پولیس کو نہ صرف جدید آلات سے لیس کیا جانا بلکہ اسے سیاسی دباؤ اور بدعنوانی جیسی بیماریوں اورکالی بھیڑوں سے بھی پاک کرنا ضروری ہے

اس صورت حال پر محکمہ داخلہ کے مشیر، پولیس اور شہریوں کے درمیان رابطے کے لیے کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم سی پی ایل سی کے سابق سربراہ شرف الدین میمن نے وارداتوں میں اضافے اور پولیس کی اغوا کے مقدمات حل کرنے میں ناکامی کی وجوہات بیان کرتے ہوئے وسائل کی کمی کو بنیاد بنایا ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ پولیس کے مقابلےمیں جرائم پیشہ عناصر جدید ٹیکنالوجی سے لیس ہو چکے ہیں۔ شرف الدین میمن نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ جرائم پیشہ عناصر کے سیاسی اثر و رسوخ کے باعث پولیس انہیں گرفتار کرنے میں بے بس نظر آتی ہے۔

حکام کی وضاحتیں اور جرائم کی سرکوبی کے لیے کئے جانے والے اقدامات کے دعوے اپنی جگہ لیکن حقیقت یہ ہے کہ کراچی میں نہ صرف سیاسی بلکہ انفرادی جرائم کی شرح میں غیر معمولی حد تک اضافہ ہو چکا ہے جبکہ صورت حال بہتر بنانے کے لیے خاطرخواہ اقدامات کی اشد ضرورت ہے۔ اس مقصد کے لیے پولیس کو نہ صرف جدید آلات سے لیس کیا جانا بلکہ اسے سیاسی دباؤ اور بدعنوانی جیسی بیماریوں اورکالی بھیڑوں سے بھی پاک کرنا ضروری ہے۔

رپورٹ: رفعت سعید، کراچی

ادارت: امجد علی

DW.COM

ویب لنکس