1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

کراچی میں جرائم کا گراف نیچے، جائیداد کی قیمتیں اوپر

عبدالقدیر نے کراچی میں رہائشی فلیٹوں کا ایک بلاک تعمیر کرنے کا ارادہ چار برس قبل اس وقت ختم کر دیا تھا جب بھتہ خوروں نے حفاظت کے نام پر اس سے 20 لاکھ روپے طلب کیے اور انکار پر اسے گولیاں مار کر زخمی کر دیا تھا۔

اب عبدالقدیر ایک بار پھر اپنے منصوبے کو عملی جامہ پہنا رہا ہے اور کئی اپارٹمنٹس پر مشتمل اس کمپلکس کو عنقریب مکمل کرنے والا ہے۔ اس کاروبار میں اُس کی واپسی کے فیصلے کی وجہ دراصل پاکستان کے اس سب سے بڑے اور اقتصادی حَب کہلانے والے شہر کراچی میں امن و امان کی صورتحال میں بہتری اور جرائم میں کمی ہے۔ پاکستانی فورسز کی طرف سے اُس وقت شدید بد امنی کے شکار کراچی میں آپریشن کا آغاز 2013ء میں کیا گیا تھا۔

عبدالقدیر نے خبر رساں ادارے روئٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’لوگوں کے اندر دہشت کا احساس کم ہو گیا ہے۔ کاروبار اچھا ہے۔‘‘ عبدالقدیر کو پیش آنے والے حالات ایسے دیگر افراد کے لیے بھی عام تھے، جو 20 ملین کے آبادی والے شہر کراچی میں کاروبار کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ مگر رینجرز کی طرف سے شہر میں جرائم کے خلاف شروع کیے جانے والے آپریشن کے بعد شہر کے حالات میں کافی حد تک بہتری آ چکی ہے۔ اسی باعث لوگوں کے اعتماد میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ پراپرٹی کا کاروبار کرنے والے اسی اعتماد سے فائدہ اٹھانا چاہ رہے ہیں۔

کراچی میں گزشتہ برس زمینوں اور جائیداد کی قیمتوں میں 23 فیصد کا ریکارڈ اضافہ ہوا

کراچی میں گزشتہ برس زمینوں اور جائیداد کی قیمتوں میں 23 فیصد کا ریکارڈ اضافہ ہوا

پراپرٹی ویب سائٹ زمین ڈاٹ کام کے ایک تجزیے کے مطابق کراچی میں گزشتہ برس زمینوں اور جائیداد کی قیمتوں میں 23 فیصد کا ریکارڈ اضافہ ہوا۔ یہ پاکستان کے کسی بھی شہر میں ہونے والا سب سے زیادہ اضافہ ہے جبکہ قومی سطح پر ہونے والا اوسط اضافہ 10 فیصد رہا۔

کراچی میں رینجرز کی طرف سے جاری آپریشن کو ایم کیو ایم اور سندھ میں حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی سمیت بعض دیگر سیاسی جماعتوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کی طرف سے تنقید کا نشانہ بھی بنایا جاتا ہے تاہم کاروباری برادری کی طرف سے اس کی تحسین اور حمایت کی جاتی ہے۔

پاکستان کے بڑے کاروباری اور سرمایہ کاروں میں شمار ہونے والے عارف حبیب کا روئٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا، ’’ان علاقوں میں جہاں پہلے امن و امان کی صورتحال کا مسئلہ تھا، اب لوگوں نے دوبارہ گھر خریدنا شروع کر دیے ہیں۔‘‘ عارف حبیب کارپوریشن کراچی میں ایک بڑی ہاؤسنگ اسکیم بنا رہی ہے۔ اس اسکیم میں 30 ہزار گھروں کے لیے زمین خریدی جا چکی ہے اور یہ پاکستان کا پہلا ریئل اسٹیٹ انویسٹمنٹ ٹرسٹ ہے، جسے اسٹاک ایکسچینج میں رجسٹر کروایا گیا ہے۔

رینجرز کی طرف سے اُس وقت شدید بد امنی کے شکار کراچی میں آپریشن کا آغاز 2013ء میں کیا گیا تھا

رینجرز کی طرف سے اُس وقت شدید بد امنی کے شکار کراچی میں آپریشن کا آغاز 2013ء میں کیا گیا تھا

کراچی میں پراپرٹی کی مد میں سرمایہ کاری کے بارے میں سرکاری سطح پر تو کوئی اعداد و شمار دستیاب نہیں ہیں تاہم زمینوں کی قیمتوں اور نئے شروع ہونے والے پراجیکٹس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہاں طلب میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ 2015ء کے دوران کراچی میں 134 نئے پراجیکٹس شروع کیے گئے ہیں۔ جبکہ اس سے ایک برس قبل یعنی 2014ء میں 106 پراجیکٹس کا آغاز ہوا تھا۔ زمین ڈاٹ کام کے اعداد و شمار کے مطابق 2013ء میں ایسے پراجیکٹس کی تعداد 72 تھی۔