1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کراچی میں تناؤ ، اکتیس ہلاک

پاکستان کے مالیاتی مرکز کراچی میں امن و سلامتی کے حالات بدستورکشیدہ بیان کئے جا رہے ہیں جبکہ اسی دوران ٹارگٹ کِلنگ کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ حکومت اور سیاسی جماعتیں ان ہلاکتوں کو سیاسی قتل قرار دے رہے ہیں۔

default

حکام کے مطابق تشدد کی کارروائیوں میں کمی واقع ہو رہی ہے

کراچی شہر کی پولیس کے افسران کے مطابق شہر میں ہونے والی ہلاکتوں میں سیاسی وابستگی رکھنے والے افراد کو خاص طور پرنشانہ بنایا جا رہا ہے۔ بعض سرکاری ذرائع کے مطابق کراچی میں ضمنی انتخابات کے دوران اکتیس افراد ہلا ک ہوئے جبکہ ایم کیو ایم (MQM)کے رکن صوبائی اسمبلی رضا حیدر کے قتل کے بعد سے کل ہلاک ہونے والوں کی تعداد پچاسی تک پہنچ چکی ہے۔ ہنگاموں کی نئی لہر کے بعد سے ساٹھ افراد کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔

شہر میں خوف و ہراس کی کیفیت کے ساتھ ساتھ کشیدگی اور تناؤ محسوس کیا جا رہا ہے۔ شہر میں نسلی اور فرقہ وارانہ منافرت عروج پر بیان کی جا رہی ہے۔ پولیس حکام کے مطابق جرائم بڑھ چکے ہیں اور اغوا برائے تاوان کی وارداتوں میں بھی اضافہ محسوس کیا جا رہا ہے۔ دوسری طرف متحدہ قومی تحریک اور عوامی نیشنل پارٹی کے کارکنوں کے مابین بھی ٹھنی ہوئی ہے۔ یہ امر اہم ہےکہ دونوں جماعتیں مرکز میں پیپلز پارٹی کی حلیف ہیں۔

Pakistans Innenminister Rehman Malik auf PK zum Tod des Talibanführers Mehsud

پاکستانی وزیر داخلہ رحمان ملک کراچی کا خصوصی دورہ کر رہے ہیں

کراچی کی سکیورٹی کی مخدوش صورت حال کے تناظر میں مرکزی وزیر داخلہ رحمان ملک کراچی پہنچ کر مختلف طبقہ ہائے فکر سے تعلق رکھنے والے افراد سے ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے۔ ان ملاقاتوں کا مقصد فریقین کے اندر پیدا شدہ کشیدگی کوکم کرنا بتایا گیا ہے۔ رحمان ملک کا کہنا ہے کہ اس کشیدگی کا خاتمہ کراچی شہر کے باسیوں کے لئے بہت ضروری ہے۔

کراچی شہر میں ہونے والی ہلاکتوں کی سرکاری تعداد پر غیرسرکاری حلقے یقین نہیں رکھتے۔ انسانی حقوق کی سرگرم تنظیموں کے مطابق گزشتہ چھ ماہ کے دوران شہر میں ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد 260 سے تجاوز کرچکی ہے۔

کراچی شہر میں سب سے فعال قوت متحدہ قومی موومنٹ کی تصور کی جاتی ہے اور یہ جماعت مرکزی اور صوبائی حکومت پر زور ڈال رہی ہے کہ اس کے کارکنوں کی ہلاکتوں کو ہر ممکن طریقے سے روکا جائے۔ ایسے ہی خیالات عوامی نیشنل پارٹی کے اکابرین کے بھی ہیں۔ سب سے اہم یہ ہے کہ حکومتی انتظامیہ کے ساتھ ساتھ سیاسی جماعتیں اس تمام صورت حال کی ذمہ داری قبول کرنے سے گریز کرتی ہیں۔

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق کراچی میں تشدد کی کارروائیوں میں کمی دیکھی جا رہی ہے تاہم حساس مقامات پر ابھی بھی سکیورٹی اہلکاروں کا گشت جاری ہے۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: عاطف بلوچ

DW.COM

ویب لنکس