1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کراچی میں بم دھماکہ، تین نیم فوجی اہلکار ہلاک

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں آج جمعے کو تین نیم فوجی اہلکار اس وقت ہلاک اور چار دیگر زخمی ہو گئے، جب ان کی گاڑی سڑک کنارے نصب ایک بم کی وجہ سے ہونے والے دھماکے کی زد میں آ گئی۔

default

صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی میں وزارت داخلہ کے ترجمان شرف الدین میمن نے فرانسیسی خبر ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ ہلاک اور زخمی ہونے والے سپاہی رینجرز کے اہلکار تھے۔ انہوں نے بتایا کہ ان سپاہیوں کی گاڑی کو ریموٹ کنٹرول کی مدد سے کیے جانے والے بم حملے کا نشانہ بنایا گیا۔

صوبائی حکام کے مطابق رینجرز کی جس گاڑی کو نشانہ بنایا گیا، وہ کراچی شہر کے مشرقی حصے میں ایک سڑک سے گزر رہی تھی۔ سرکاری ذرائع کے مطابق ابھی تک کسی بھی گروہ یا تنظیم نے اس دھماکے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔

پولیس ذرائع کے مطابق اس بم حملے کے علاوہ کراچی کے مشرقی علاقے میں ہی صفورہ چورنگی کے مقام پر ہونے والے ایک دوسرے بم دھماکے میں بھی رینجرز کے چار اہلکار زخمی ہو گئے۔

Pakistan Autobombe in Karachi vor US Konsulat

ایک اندازے کے مطابق جب سے سن 2007 میں حکومت پاکستان نے اسلام آباد میں لال مسجد فوجی آپریشن کیا ہے، تب سے اب تک مختلف بم دھماکوں میں تقریباﹰ 4,700 افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور ان ہلاکتوں کا الزام طالبان عسکریت پسندوں اور دہشت گردوں کے القاعدہ نیٹ ورک پر عائد کیا جاتا ہے۔

پاکستان کواس وقت اقتصادی بحران کے ساتھ ساتھ دہشت گردی کے چیلنج کا بھی سامنا ہے ۔ گزشتہ 16 برسوں کے دوران کراچی شہر کو بھی بار بار بدترین نسلی تشدد اور سیاسی تناؤ کا سامنا رہا ہے۔ کراچی میں ٹارگٹ کلنگز، دیگر خونریز واقعات اور آئے دن کی مسلح جھڑپوں کا عالم یہ ہے کہ پاکستان کے سب سے زیادہ آبادی والے اس شہر میں صرف اکتوبر کے مہینے میں سو سے زائد افراد مارے گئے تھے۔

پاکستان میں سرگرم طالبان عسکریت پسند کراچی میں بھی حملے کرتے رہتے ہیں مگر اس شہر میں خونریز فسادات کی اصل وجہ وہاں متحدہ قومی موومنٹ ایم کیو ایم اور پشتون نسل کی آبادی کے درمیان پائی جانے والی نسلی کشیدگی ہے۔

رپورٹ: عصمت جبیں

ادارت: ندیم گِل

DW.COM