1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کراچی میں بدامنی کی ذمہ دار ایم کیو ایم ہے، ذوالفقار مرزا

پاکستان کی حکمران جماعت کے سینئر صوبائی وزیر ڈاکٹر ذوالفقار مرزا مستعفی ہو گئے ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ کراچی میں بدامنی کی ذمہ دار شہر کی بڑی سیاسی جماعت متحدہ قومی موومنٹ ہے۔

default

حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر صوبائی وزیر ڈاکٹر ذوالفقار مرزا نے یہ بیان اتوار کو کراچی میں ایک نیوز کانفرنس کے دوران دیا، جو ملک بھر میں پرائیویٹ ٹیلی وژن چینلوں پر براہ راست نشر کی گئی۔ انہوں نے مسلمانوں کی مقدس کتاب قرآن کی جِلد تھامے ہوئے کہا کہ کراچی میں اغوا، بھتہ خوری اور تشدد کی ذمہ دار متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) ہے۔

انہوں نے یہ الزام بھی لگایا کہ ایم کیو ایم ہی صحافی ولی خان بابر کے قتل کی ذمہ دار ہے۔ انہوں نے کہا: ’’میں کھل کر یہ کہتا ہوں کہ ایم کیو ایم نے ہی اسے قتل کیا۔‘‘

ذوالفقار مرزا نے کہا کہ انہوں نے وزیر داخلہ رحمان ملک کے ساتھ اختلافات کی بناء پر استعفیٰ دیا ہے۔ اے پی کے مطابق ایم کیو ایم سے فوری طور پر ردعمل کے لیے رابطہ نہیں ہو سکا۔ تاہم پاکستان کے مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق ایم کیو ایم نے ذوالفقار مرزا کے بیانات کی مذمت کی ہے جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی نے ان کے بیانات سے لاتعلقی ظاہر کی ہے۔

Plakat Altaf Hussain

متحدہ قومی موومنٹ نے ذوالفقار مرزا کے بیان کی مذمت کی ہے

خبر رساں ادارے اے پی کا کہنا ہے کہ مرزا کی نیوز کانفرنس کے بعد کراچی کی سڑکوں پر بھی فوری ردعمل دکھائی نہیں دیا۔ خیال رہے کہ ایم کیو ایم اور دیگر سیاسی جماعتیں کراچی میں جاری تشدد کی لہر میں ملوث ہونے کی تردید کرتی ہیں۔

پاکستان کا تجارتی مرکز کراچی طویل عرصے سے نسلی اور سیاسی تشدد کی لپیٹ میں ہے، تاہم اس مرتبہ یہ سلسلہ طول پکڑ گیا ہے۔ اے پی نے غیر جانبدار تجزیہ کاروں کے حوالے سے کہا ہے کہ ایم کیو ایم، عوامی نیشنل پارٹی اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان کراچی کے مختلف علاقوں پر کنٹرول کے لیے لڑائی ہو رہی ہے اور ان جماعتوں سے وابستہ قاتل تشدد کی کارروائیوں میں ملوث ہیں۔

اے پی کے مطابق ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کے اس بیان سے کراچی میں حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں۔ وہاں جولائی سے اب تک بدامنی کے نتیجے میں چار سو سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

رپورٹ: ندیم گِل / اے پی

ادارت: عابد حسین

DW.COM

ویب لنکس