1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کراچی میں ایک ہفتے کے دوران 100 سے زائد ہلاکتیں

ایم کوایم کے یوم سوگ کی اپیل پر آج منگل 23 اگست کو کراچی میں مکمل ہڑتال رہی۔ دوسری طرف پرتشدد واقعات میں آج بھی چارافراد ہلاک اورپانچ زخمی ہوگئے۔

default

دوسری طرف وزیراعلٰی سندھ قائم علی شاہ کی صدارت میں ہونے والے ایک اجلاس میں بھتہ خوری کو دہشت گردی جیسا جرم قراردینے کے لیے انسداد دہشت گردی ایکٹ  1997 میں ترمیم کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

پولیس نے لیاری کینگ وار سے وابستہ چارٹارگٹ کِلرز کو گرفتارکرنے کا بھی دعوی کیا ہے۔  پولیس کے مطابق اس گروہ کا سرغنہ اکرم بلوچ سابق وزیراعظم بے نظیربھٹو اورصدرآصف علی زرداری کے سیکورٹی گارڈ رہ چکا ہے۔

کراچی میں ہڑتالوں کی سیاست اوربدامنی سے ملکی معیشت کے ساتھ ساتھ قومی رہنماﺅں کی ساکھ کو بھی بری طرح نقصان پہنچ رہا ہے۔ کراچی میں امن و امان کی خراب صورتحال کے باعث گزشتھ 10 دنوں کے دوران 25 فیصد صنعتی مصنوعات کی پیداوار متاثر ہوئی ہے جبکہ 35 لاکھ مزدور بیروزگار ہوئے ہیں۔

 

پولیس نے لیاری کینگ وار سے وابستہ چارٹارگٹ کِلرز کو گرفتارکرنے کا دعوی کیا ہے

پولیس نے لیاری کینگ وار سے وابستہ چارٹارگٹ کِلرز کو گرفتارکرنے کا دعوی کیا ہے

ہڑتالوں کی وجہ سے حکومت کو ریونیو کی مد میں 20 ارب روپے کا نقصان اٹھانا پڑاہے جبکہ وزیراعظم کی طرف سے دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کی ہدایت کے بعد بھی پرتشدد واقعات کا سلسلہ جاری ہے۔

کراچی میں بدامنی اور ہڑتالوں کا سلسلہ رواں سال 11 مارچ سے شروع ہوا جب حکمران جماعت پیپلزپارٹی نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف احتجاج کی کال دی جو ہڑتال میں تبدیل ہوگئی۔

آل کراچی تاجر اتحاد کی اپیل پر بجلی کی بڑھتی ہوئی لوڈشیڈنگ کے خلاف ہڑتال کی گئی۔ متحدہ قومی موومنٹ کی جانب سے حکومت سے اختلافات کے بعد پہلی ہڑتال کی کال 3 مئی 2011ءکو دی گئی جس کے بعد ہڑتالوں کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوگیا جو اب تک وقفے وقفے سے جاری ہے۔ جبکہ بدامنی کے باعث غیر اعلانیہ ہڑتالیں اس کے علاوہ ہیں۔ یوں کراچی میں جنوری سے  23 اگست2011ء تک گیارہ ہڑتالیں کی گئیں۔ جس سے قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان اٹھانا پڑا۔

 

کراچی میں گزشتھ 10 دنوں کے دوران 25 فیصد صنعتی مصنوعات کی پیداوار متاثر ہوئی ہے جبکہ 35 لاکھ مزدور بیروزگار ہوئے

کراچی میں گزشتھ 10 دنوں کے دوران 25 فیصد صنعتی مصنوعات کی پیداوار متاثر ہوئی ہے جبکہ 35 لاکھ مزدور بیروزگار ہوئے

پاکستان کے تجارتی، معاشی اور مالی حب کراچی کی صورتحال انتہائی ابتر ہوچکی ہے۔ گزشتہ ایک سال کے دوران کراچی میں ہڑتال کی 36 کال دی گئیں جن میں سے کچھ مکمل اور کچھ جزوی طور پر کامیاب ہوئیں۔

ہڑتالوں کے دوران شر پسندوں کی طرف سے اربوں روپے مالیت کی دکانیں، گاڑیاں اور املاک کو نقصان پہنچایا گیا۔ اقتصادی ماہرین کے مطابق کراچی میں ہڑتالوں کے سبب ملکی معیشت کو روزانہ 2 سے 3 ارب روپے کا نقصان ہوتا ہے۔ ہڑتالوں کے سبب معاشی پیداوار میں 2.4 فیصد کمی ہوئی ہے۔

سال 2011ء کے پہلے سات ماہ اور 23 دنوں میں کراچی میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد نوسوسے زائد ہوگئی ہے جو انیس سو پچانوے کے بعد سب سے زیادہ ہے جب نوسوافراد مارے گئے تھے۔

رپورٹ: رفعت سعید، کراچی

ادارت: افسر اعوان

DW.COM

ویب لنکس