1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کراچی میں امن پر سمجھوتہ نہیں، وزیراعظم اور فوجی قیادت شہر میں

کراچی آپریشن کی کامیابی کے لیے رینجرز کو دیے گئے خصوصی اختیارات میں توسیع کے لیے وزیر اعظم نواز شریف اور آرمی چیف جنرل راحیل شریف کو کراچی جانا۔

وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف پیر کی صبح کراچی ایئرپورٹ پہنچنے کے بعد ہیلی کاپٹر کے ذریعے پہلے بلوچستان گئے، جہاں انہوں نے ملکی فضائیہ کے جنگی طیاروں کے مظاہرے میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی تاہم اسلام آباد سے ان کے ہمراہ کراچی آنے والے وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان نے گورنر ہاؤس کراچی میں گورنر، وزیر اعلٰی سندھ اور ڈائریکٹر جنرل سندھ رینجرز میجر جنرل بلال اکبر سے ملاقات کی۔

امن و امان سے متعلق اجلاس کے لیے آرمی چیف جنرل راحیل شریف اور ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹینٹ جنرل رضوان اختر بھی کراچی پہنچے اور کور ہیڈکوارٹرمیں لیفٹینٹ جنرل نوید مختار سے ملاقات کی اور پھر وہیں ڈی جی رینجرز سندھ کو بھی طلب کر لیا گیا۔

وزیر اعظم نواز شریف بلوچستان سے کراچی پہنچے تو پہلے گورنر ہاوس میں وزیر اعلٰی سندھ سے ملاقات کی۔ جس میں وزیر اعلٰی قائم علی شاہ نے کھل کر دل کی بات کی، پہلے تو انہوں نے وزیراعظم سے شکوہ کیا کہ رینجرز اور دیگر وفاقی ادارے اختیارات سے تجاوز کررہے ہیں۔ انہیں روکیں۔ ایف آئی اے 4 ماہ قبل کے ڈی اے کے دفتر سے 5 ہزار فائلیں لے گئی تھی جن کا تاحال کچھ پتہ نہیں ہے۔ اور پھر دوسرا مطالبہ تھا وفاق پر سندھ کے واجب الادا 20 ارب روپے کی ادائیگی کا۔ جبکہ وزیر اعلٰی نے رینجرز کو دیئے گئے خصوصی اختیارات میں توسیع کو سندھ اسمبلی کی منظوری سے مشروط کرتے ہوئے ایک ماہ اضافے کا عندیہ بھی دیا۔

Dr. Asim Hussain Pakistan

ڈاکٹر عاصم حسین نے بھی تشدد کی شکایت کی تھی

تجزیہ کاروں کے مطابق وزیر اعلٰی سندھ کی بات ایک حدتک درست ہے۔ رینجرز بعض معاملات میں جانب دار محسوس ہوتی ہے، جیسا کے ڈاکٹر عاصم نے بھی آج عدالت میں پیشی کے دوران بتایا کہ وہ بظاہر پولیس کی تحویل میں ہیں اور ان پر تشدد بھی کیا جاتا ہے۔

وزیر اعظم کی زیر صدارت اجلاس شروع ہوا تو آئی جی سندھ نے شہر میں امن و امان سے متعلق شرکا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ ہفتے ملٹری پولیس اور نومبر میں رینجرز پر حملے میں ملوث 3 دہشت گرد گرفتار کر لیے گئے ہیں جب کہ آپریشن کے دوران گرفتار66 افراد میں سے 30 دہشت گردوں کو عدالتوں سے سزا دلانے میں کامیابی حاصل ہوئی ہے تاہم بقیہ رہا ہوگئے۔ وزیر اعظم نے پولیس کے شعبہ پراسیکیوشن کی کارکردگی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اسے بہتر بنانے کی ہدایت کی۔

اجلاس سے خطاب میں وزیر اعظم کا کہنا تھاکہ کراچی آپریشن 7 سے 8 سال پہلے شروع ہونا چاہیے تھا تاہم ان کی حکومت نے فیصلہ کیا اور 27 ماہ کے دوران حالات میں بہت بہتری آئی ہے۔ پہلے کاروباری افراد اپنے معاہدوں کے لیے دبئی جاتے تھے کیوں کہ بیرونی سرمایہ کار کراچی آنے کو تیار نہیں تھے۔ مگر اب لوگ کراچی آنے میں خوف زدہ نہیں ہیں۔

وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان کہنا تھا کہ آپریشن کے آغاز پر تمام جماعتوں نے رضامندی اور حمایت کا اعلان کیا تھا لیکن آہستہ آہستہ حمایت میں کمی ہوتی جا رہی ہے تاہم کراچی کے شہریوں کی بھرپور حمایت اب بھی آپریشن کو حاصل ہے۔

وزیر اعلٰی سندھ نے اجلاس کے دوران کہا کہ آپریشن آخری دہشت گرد کے خاتمے تک جاری رہے گا لیکن پولیس کوجدید ہتھیاروں اوربکتر بند گاڑیوں کی فراہمی کے لیے وفاق مدد کرے، جبکہ پولیس کو نادرا کے ریکارڈ تک بھی رسائی دی جائے تاکہ پولیس کی کارکردگی مزید موثر ہوسکے۔ انہوں نے رینجرز کے اختیارات میں توسیع پر بھی رضامندی کا اظہار کیا لیکن ابھی واضح نہیں کہ یہ توسیع براہ راست ہوگی یا سندھ اسمبلی منظور سے مشروط ہے۔