1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کراچی میں القاعدہ کا سربراہ ساتھی سمیت مسلح آپریشن میں ہلاک

پاکستان کے بندرگاہی شہر کراچی میں گزشتہ روز ایک حساس ادارے کے اہلکاروں کے ایک چھاپے کے دوران شہر میں القاعدہ کے کمانڈر سمیت دو دہشت گرد مارے گئے جبکہ اس کارروائی میں ایک سکیورٹی اہلکار بھی ہلاک ہوگیا۔

default

اسماعیلی شہریوں کی مسافر بس پر کیا جانے والا حملہ کراچی میں گزشتہ برسوں کے دوران کیے جانے والے بڑے دہشت گردانہ حملوں میں سے ایک تھا

ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کو القاعدہ کے کراچی میں کمانڈر عبدالاحد اور محمد صالح الیاس کے ناموں سے شناخت کیا گیا ہے۔ حکام کے بقول عبدالاحد سوات سے تعلق رکھتا تھا جبکہ محمد صالح الیاس کراچی سے تعلق رکھنے والا ایک اعلٰی تعلیم یافتہ نوجوان تھا۔

حکام نے بتایا کہ چھاپے کے وقت دونوں دہشت گردوں کی بیویاں بھی ان کے ساتھ موجود تھیں، جن کی نشاندہی پر مزید چھ افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے اور توقع ہے کہ اس طرح کرچی میں القاعدہ کے پورے نیٹ ورک کو بے نقاب کیا جا سکے گا۔

ذرائع کے مطابق اس کارروائی کے دوران قبضے میں لیے گئے کپمیوٹر سے انتہائی اہم معلومات حاصل ہوئی ہیں، جن سے ثبوت ملے ہیں کہ دہشت گردوں نے یوم آزادی پر ایک بڑی مسلح واردات کی منصوبہ بندی کر رکھی تھی لیکن ملکی سکیورٹی اداروں کے اقدامات کے باعث انہیں کامیابی حاصل نہ ہوسکی۔

اس طرح کسی معروف تعلیمی ادارے کے اعلٰی تعلیم یافتہ نوجوان کا دہشت گردی میں ملوث ہونا دوسری مرتبہ سامنے آیا ہے، جو محض دینی مدارس کو ہدف تنقید بنانے والے سیاست دانوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں سمیت سب کے لیے ایک لمحہ فکریہ ہے۔

اس سال مئی میں کراچی میں اسماعیلی برادری کے افراد سے بھری ایک مسافر بس میں گھس کر دہشت گردوں نے 53 افراد کو فرداﹰ فرداﹰ گولی مار دی تھی، جن میں سے 48 ہلاک ہو گئے تھے جبکہ باقی شدید زخمی ہوئے تھے۔

پولیس نے غیر معمولی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پانچ افراد کو گرفتار کر لیا تھا۔ ان میں اس گروہ کا سرغنہ طاہر عرف سائیں پنجاب سے تعلق رکھتا ہے جبکہ بقیہ پانچ افراد سعد عزیز، اسد رحمان، اظہر عشرت اور حافظ ناصر کراچی کے کھاتے پیتے گھرانوں سے تعلق رکھنے والے اعلٰی تعلیم یافتہ نوجوان ہیں۔

ملزمان کو گرفتار کرنے والے پولیس کے انسداد دہشت گردی کے شعبے کے سینیئر افسر راجہ عمر خطاب نے ڈوئچے ویلے سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ ملزم طاہر عرف سائیں کا تعلق پنجاب میں جماعت اسلامی سے رہا ہے اور وہ 1999ء میں پہلی بار افغانستان گیا تھا جبکہ بقیہ چار ملزمان کا تعلق ماضی میں تنظیم اسلامی سے رہا ہے۔ یہ چاروں ملزم اپنی ذاتی زندگیوں میں پیدا ہونے والی ناہمواریوں کے باعث اچانک مذہب کی طرف راغب ہوئے تھے۔

Screenshot Twitter zu Pakistan Karachi Anschlag auf Frauenrechtsaktivistin Sabeen Mehmud

اسی سال موسم بہار میں کراچی میں خواتین کے ‌حقوق کے لیے کام کرنے والی معروف کارکن سبین محمود بھی دہشت گردوں کے ایک حملے میں ماری گئی تھیں

راجہ عمر خطاب نے کہا کہ ملزم طاہر اور مفرور دہشت گرد جلال 2012 تک برصغیر میں القاعدہ کی شاخ سے منسلک رہے ہیں اور افغانستان کے علاقے ہلمند سے رمزی یوسف کا بھائی ’حاجی‘ انہیں مالی معاونت فراہم کیا کرتا تھا۔ لیکن داعش کے وجود میں آنے کے بعد طاہر نے حاجی اور جلال سے علیحدگی اختیار کر لی اور اپنا ایک علیحدہ گروپ بنا لیا۔ اس کی افغانستان میں ہی موجود کراچی کے دو نوجوان بھائیوں فرحان اور عبداللہ یوسف کے ذریعے داعش سے رابطوں کی کوششیں بھی جاری تھیں۔

ان ملزمان نے اپنے لیے مالی وسائل حاصل کرنے کی خاطر شروع میں بینکوں میں ڈاکے بھی ڈاکے بھی مارے تھے اور سن دو ہزار بارہ میں ہی کراچی کے علاقے ناظم آباد میں ایک بینک ڈکیتی کے دوران پولیس کی فائرنگ سے ان کے دو ساتھی مارے بھی گئے تھے۔

تفتیش کاروں کے مطابق اعلٰی تعلیم یافتہ ہونے کی وجہ سے ملزمان نے بہت سے احتیاطی تدابیر اختیار کر رکھی تھیں۔ آپس میں رابطوں کے لیے وہ موبائل ٹیلی فونوں کے بجائے اسمارٹ موبائل ایپلیکیشنز استعمال کرتے تھے، ایک دوسرے کو اس کے اصلی نام سے بلانے کی بجائے کوڈ ناموں سے پکارا جاتا اور آپس میں اپنے گھروں کے بارے میں کسی کو کچھ نہ بتانا بھی ان کے طریقہ کار میں شامل تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ان اقدامات کے باعث اس گروہ میں شامل افراد کی اکثریت اب بھی قانون کی گرفت سے دور ہے۔

راجہ عمر خطاب کے مطابق گرفتار ملزمان سے تفتیش کے بعد یہ بات وثوق سے کہی جاسکتی ہے کہ اس گروہ کے کم از کم 35 افراد ابھی تک مفرور ہیں۔ ان میں سے صرف چند ایک ہی کی تصاویر حاصل ہو سکی ہیں۔ اب تک زیر حراست ملزمان کی مدد سے مفرور ملزمان کے کچھ تصویری خاکے تیار تو کیے گئے ہیں تاہم مزید گرفتاریوں کے حوالے سے تاحال خاطر خواہ نتائج سامنے نہیں آ سکے۔

DW.COM