1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کراچی میں آپریشن کی قیاس آرائیاں

پاکستان کے اقتصادی مرکز کراچی کے مکینوں میں بدستور خوف و حراس پایا جارہا ہے جبکہ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات قمر زمان کائرہ نے واضح کیا ہے کہ اس وقت شہر میں فوجی آپریشن کے امکان پر غور نہیں کیا جارہا ہے۔

default

قمر زمان کائرہ، فوجی ترجمان میجر جنرل اطہر عباس کے ہمراہ، فائل فوٹو

کراچی سے موصولہ اطلاعات کے مطابق شہر کے حساس علاقوں میں نیم فوجی رینجرز اور پولیس کا گشت بڑھادیا گیا ہے۔ شہر میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران چار مزید ہلاکتوں کی اطلاعات ہیں۔

ڈبل سواری پر پابندی کی پاداش میں چھ سو سے زائد افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔ گزشتہ طویل عرصے سے ہدف بناکر قتل کئے جانے کی وارداتوں میں اضافے کے بعد شہریوں میں عدم تحفظ کا احساس شدت اختیار کرتا جارہا ہے۔ پرتشدد واقعات کی نئی لہر میں اب تک دو درجن سے زائد شہری اپنی جانیں گنوا بیٹھے ہیں۔

Pakistan Ehemaliger Premierminister Nawaz Sharif

مسلم لیگ (نواز) کے سندھ میں نائب صوبائی سربراہ طارق خان بھی دہشت گردی کا نشانہ بنے تھے

ادہر لاہور میں اخبار نویسوں سے گفتگو کے دوران وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات قمر زمان کائرہ نے کہا کہ شہر میں سلامتی کو یقینی بنانا صوبائی حکومت کا کام ہے اور اگر وفاق سے درخواست کی گئی تب دیکھا جائے گا۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ امن امان یقینی بنانا اکیلے حکومت کے بس کی بات نہیں، تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں کو حکومت کے کاندھے سے کاندھا ملانا ہوگا۔

وفاقی وزیر نے عندیہ دیا کہ کراچی کے معاملے پر غور کے لئے قومی اسمبلی کا خصوصی اجلاس طلب کیا جاسکتا ہے جس میں کسی بھی حکمت عملی پر اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف نے کراچی میں قتل و غارت گری پر قابو پانے میں ناکامی پر حکومت کو ایک بار پھر کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

Bombenanschlag in Karachi Pakistan

دہشت گردی کی تازہ لہر میں دو درجن سے زیادہ انسانی جانیں ضائع ہوئیں

گزشتہ روز سندھ کے ضلع بدین میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران نواز شریف نے کراچی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں کوئی ’نو گو ایریا‘ نہیں بننے دیا جائے گا، یہ ملک سب کا ہے اس میں رنگ ونسل اور زبان کی بنیاد پر کوئی تقسیم نہیں۔ نواز شریف کا کہنا تھا کہ وہ کراچی میں قتل و غارت گری کرنے والوں کو جانتے ہیں۔

پاکستانی ذرائع ابلاغ میں محکمہ داخلہ سندھ کے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ شہر کی 120 حساس بستیوں میں آپریشن کی تیاریاں کی جارہی ہیں۔ اس آپریشن کے لئے ممکنہ طور پر پولیس کے خصوصی دستوں اور رینجرز سمیت خواتین پولیس اہلکاروں کی خدمات بھی حاصل کی جاسکتی ہیں۔ بتایا جارہا ہے کہ صوبائی حکومت اس معاملے پر اتحادیوں کا اعتماد حاصل کرنے کی کوشش میں ہے۔

رپورٹ : شادی خان سیف

ادارت : عابد حسین

DW.COM