1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

کراچی میں آٹھویں سالانہ اردو کانفرنس کا انعقاد

آرٹس کونسل آف پاکستان کے زیر اہتمام آٹھویں سالانہ اردو کانفرنس کراچی میں شروع ہوگئی ہے، جس میں پاکستانی اہل علم کے علاوہ بھارت، بنگلہ دیش، برطانیہ، کینیڈا اور امریکہ سمیت دس ممالک سے ادیب اور شعراء بھی شرکت کر رہے ہیں۔

کانفرنس کی صدارت کرنے والے ممتاز ادیب اور ماہر تعلیم ڈاکٹر پیرزادہ قاسم کہتے ہیں کہ پاکستان میں اردو قومی یکجہتی اور صوبائی ہم آہنگی کا واحد ذریعہ ہے۔ زوال پذیر معاشرے میں پیدا ہونے والی اردو آج پوری قوت سے موجود ہے۔

منگل آٹھ دسمبر کی شام کانفرنس کے افتتاحی اجلاس میں فرہاد زیدی، پروفیسر سحر انصاری، کشور ناہید، ڈاکٹر قاسم بگھیو، عالیہ امام، ڈاکٹر ابوالکلام قاسمی، محمود السلام، ڈاکٹر انعام الحق، امداد حسینی، حسینہ معین، طلعت حسین، پروفیسر اعجاز احمد فاروق اور مالک غوری سمیت بہت سی سرکردہ شخصیات نے شرکت کی۔

بھارت سے آئے ہوئے ادیب ڈاکٹر شمیم حنفی کا کہنا تھا کہ کسی زبان کو دوسری زبان سے ختم نہیں کیا جا سکتا۔ اردو کی خوبصورتی یہ ہے کہ اسے سب پسند کرتے ہیں۔ اردو کا دائرہ ادب بہت دور تک پھیل چکا ہے۔ نقاد اور ادیب انتظار حسین نے کہا کہ جس طرح شالامار باغ کبھی ختم نہیں ہوگا کیونکہ وہ ایک تاریخی ورثہ ہے، اسی طرح اردو بھی کبھی ختم نہیں ہو سکتی۔ ’’ہمیں ترقی کےساتھ اپنے تاریخی ورثے اور مذہبی اقدار کو محفوظ کرنے کے لیے تدابیر کرنا چاہییں۔‘‘

آرٹس کونسل کے سیکرٹری اور کانفرنس کے منتظم احمد شاہ نے خطبہ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ اردو پاکستان میں رابطے کی زبان ہے۔ اردو کی انگریزی یا کسی دوسری زبان سے دشمنی نہیں کیونکہ زبان علم یا ذہانت کی علامت نہیں بلکہ صرف ایک تعلق کا ذریعہ ہوتی ہے۔

افتتاحی تقریب کے مہمان خصوصی سینیئر صوبائی وزیر نثار کھوڑو کا کہنا تھا کہ الفاظ کی شائستگی اور تازگی کو برقرار رکھا جائے اور زبان کو فروغ دیا جانا چاہیے کیونکہ کسی بھی زبان پر قدغن لگانے سے دوریاں بڑھتی ہیں۔

چار روز تک جاری رہنے والی اس سالانہ کانفرنس میں مختلف موضوعات پر مذاکروں کے علاوہ کئی معروف مصنفین کی کتابوں کی تقاریب رونمائی بھی منعقد کی جائیں گی جبکہ سعادت حسن منٹو کا شہرہ آفاق ڈرامہ ’منٹو، میرا دوست‘ بھی اسٹیج کیا جائے گا۔

آخری روز انور مقصود اپنے منفرد انداز میں ایک مقالہ پڑھیں گے جبکہ اس کانفرنس کا اختتام ایک عالمی مشاعرے کے ساتھ ہو گا۔

معروف قلم کار مقتدٰی منصور کہتے ہیں کہ آرٹس کونسل کی کاوشوں سے اردو کانفرنس کے دیگر کئی سالانہ ایونٹ کراچی کی پہچان بنتے جا رہے ہیں۔ اس طرح کی تقاریب کسی بھی شہر اور اس میں بسنے والے اہل دانش ہی کے لیے نہیں بلکہ عام شہریوں کے لیے بھی اہمیت کی حامل ہوتی ہیں اور اردو جیسی وسیع زبان کی مزید ترویج کے لیے ایسی کانفرنسوں کا انعقاد بہت ضروری ہے۔

DW.COM