1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کراچی: مذہبی رہنماؤں کی گرفتاریاں، احتجاجی مظاہرے

پاکستانی صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی میں ہوئے حالیہ فرقہ وارانہ حملوں کی تحقیقات کے لیے سنی اور شیعہ مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے متعدد مذہبی رہنماؤں کوحراست میں لے لیا گیا ہے۔

Pakistan Gewalt bei Protesten Polizei und Streik von Pakistan International Airlines (Reuters/A. Soomro)

پولیس اور پاکستانی فوج کے نیم فوجی دستے گزشتہ دو روز سے سنی اور شیعہ دینی مدارس پر چھاپے مار رہے ہیں

انسدادِ دہشت گردی کے پولیس افسر جنید شیخ نے خبر رساں ادارے اے پی کو بتایا کہ پاکستان کی لبرل سیاسی جماعت پیپلز پارٹی کے سابقہ شیعہ رکنِ پارلیمنٹ فیصل رضا عابدی کو بھی  چھان بین کے لیے حراست میں لیا گیا ہے۔ فیصل رضا عابدی طالبان مخالف نظریات کے حامل رہے ہیں ۔

شیخ کا کہنا تھا کہ پولیس اور پاکستانی فوج کے نیم فوجی دستے گزشتہ دو روز سے سنی اور شیعہ دینی مدارس پر چھاپے مار رہے ہیں اور اِس ضمن میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد میں گرفتاریاں ہوئی ہیں۔ دوسری جانب شیعہ اور سنی مسالک سے تعلق رکھنے والے افراد ان چھاپوں اور گرفتاریوں کے خلاف کراچی میں احتجاجی ریلیاں نکال رہے ہیں۔

یاد رہے کہ پاکستان میں سنی عسکریت پسند جن میں سے بیشتر کا تعلق طالبان اور القاعدہ سے ہے، طویل عرصے سے ملک میں شیعہ اقلیت کو ’کافر‘ گردانتے ہوئے نشانہ بنائے ہوئے ہیں۔ کراچی میں پولیس کا کہنا ہے کہ شہر میں سنی افراد کےحالیہ فرقہ وارانہ قتل کے واقعات میں شیعہ عسکریت پسند ملوث ہو سکتے ہیں۔

اُدھر پاکستان کے مقامی میڈیا کے مطابق کراچی میں مذہبی جماعت مجلسِ وحدتِ مسلمین نے اپنے کارکنوں کی گرفتاریوں کے خلاف دھرنا دے رکھا ہے۔ احتجاجی مظاہرے کی وجہ سے شہر میں ٹریفک اور ریل کا نظام بھی متاثر ہوا ہے جبکہ پولیس کی جانب سے مظاہرین پر شیلنگ کی جا رہی ہے۔ مقامی میڈیا کے مطابق مظاہرین کی جانب سے پولیس پر پتھراؤ کیا گیا ہے۔ خیال رہے کہ گزشتہ روز پولیس نے کراچی میں اہم شیعہ رہنما علامہ مرزا یوسف حسن اور اہلِ سنت والجماعت کے عہدیدار تاج حنفی کو حراست میں لے لیا تھا۔

DW.COM

ملتے جلتے مندرجات