1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

کراچی قاتلوں اور بھتہ خوروں کے رحم و کرم پر

روشنیوں کا شہر کہلانے والا شہر قائد آج ٹارگٹ کلنگ اور بھتہ خوروں کے رحم و کرم پر ہے۔ ہر تین ماہ بعد شہر میں اچانک شروع ہونے والی ٹارگٹ کلنگ کی وارداتوں میں سینکڑوں شہری جان کی بازی ہار جاتے ہیں۔

default

جرائم پیشہ افراد کی جانب سے بھتہ کے لیے تاجروں کو دھمکیاں کوئی نئی بات نہیں ہیں۔ کراچی کے تاجر اس مصیبت کا سامنا کئی بار پہلے بھی کرچکے ہیں۔ مگر ماضی میں اس کی شکل و صورت مختلف رہی ہے۔ اب تو بھتہ خوروں نے شہر کے تاجروں کو بھی دھمکانا شروع کردیا ہے اور حکومتی نااہلی کے باعث تاجر ہڑتال جیسے انتہائی اقدام پر مجبور ہیں۔

نوے کی دہائی کے وسط میں کراچی کے مصافات میں ہزاروں کی تعداد میں پولٹری فارمز قائم کیے گئے تھے، جس کے باعث پولڑی ایک باقاعدہ صنعت کی صورت اختیار کرتی چلی گئی لیکن دو ہزار دو سے اب تک شہر میں بارہ سو سے زائد پولٹری فارمز بند ہوچکے ہیں۔ اس کی اہم وجہ ہے مالکان کا تاوان کے لیے اغوا ہے۔

Pakistan Gewalt Karachi

ٹارگٹ کلنگ میں ابھی تک ہزاروں افراد مارے جا چکے ہیں

پولیس ریکارڈ کے مطابق دو ہزار دو سے دو ہزار دس تک ایک سو تہتر تاجروں کو تاوان کے لیے اغوا کیا گیا۔ اغوا ہونے والوں میں سے بیشتر پولٹری فارمز کے مالکان تھے۔ ان وارداتوں کا نتیجہ یہ نکلا کہ پولٹری فارم کراچی سے پنجاب منتقل ہوگئے۔

اس حوالے سے پولیس کی معاونت کرنے والی غیر سرکاری تنظیم سٹیزن پولیس لیژن کمیٹی کے سربراہ احمد چنائے کہتے ہیں کہ اغوا برائے تاوان کے مقدمات میں پولیس کی اولین ترجیح مغوی کی زندگی بچانا ہوتی ہے۔

احمد چنائے نے دو ہزار آٹھ میں کراچی سے اغوا ہونے والے معروف فلم ڈسٹریبیوٹر ستیش آنند کے مقدمہ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اس مقدمہ میں ڈیڑھ سال مذاکرات جاری رہے اور مغوی کی رہائی کے بعد سات ملزمان کو گرفتا ر کیا گیا۔

کراچی میں بھتہ مافیا کی کاروائیاں بھی کوئی نئی سرگرمی نہیں۔ یہ کاروبار بھی شہر میں انیس سو نوے کے اواخر سے جاری ہے اور اس میں سیاسی جماعتیں بھی ملوث رہی ہیں۔ کبھی بھتہ نہ دینے پر جان سے مارنے کی دھمکی پر شہر کی سب سے بڑی الیکٹرونکس مارکیٹ کے صدر نے مہاجر قومی موومنٹ کے چئرمین آفاق احمد کے خلاف مقدمہ درج کرایا گیا تو کبھی فاروق ٹیکسٹائل ملز کے مالک نے فیکٹری لاہور منتقل کرنے کی دھمکی دی۔ آج بھی صورت حال زیادہ مختلف نہیں ہے۔

کراچی کے تاجر بھتہ مافیا کے خلاف اس سے قبل کبھی سڑکوں پر نہیں آئے۔ تجزیہ کاروں کے خیال میں اس مرتبہ بھی ان کی جانب سے ہڑتال سیاسی جماعتوں کی ایما پر کی جارہی ہے۔ ہڑتال کے معاملے پر تاجروں کی واضح طور پر دو دھڑوں میں تقسیم کے باوجود ایم کیو ایم سیمت دس سیاسی جماعتوں نے ہڑتال کی حمایت کی ہے۔

پولیس حکام کے مطابق صرف رواں برس میں بھتہ خوری کے الزام میں گرفتار کیے جانے والے 32 افراد میں سے سے زیادہ تر سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھتے ہیں، جس میں حکومت سندھ کی حلیف جماعت عوامی نیشل پارٹی کے مقامی عہدیدار بھی شامل ہیں۔

رپورٹ: رفعت سعید، کراچی

ادارت: امتیاز احمد

DW.COM