1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کراچی، طالبان کے اثر و رسوخ والے علاقوں کی ’آزادی‘ کے لیے کارروائیاں

گاڑی کی پچھلی نشست پر ایک مشین گن رکھے، پاؤں ایکسیلیریٹر پر دبائے اور ’ٹاپ گن‘ فلم جیسا چشمہ پہنے، اظفر محصر کراچی میں طالبان کے گڑھ سمجھے جانے والے علاقے کے مرکز کی جانب بڑھتا جا رہا ہے۔

پولیس افسر اظفر محصر کا کہنا ہے، ’’یہ علاقہ کسی دور میں میدان جنگ کا نقشہ پیش کرتا تھا، مگر ہم نے اسے آزاد کرا لیا ہے۔‘‘

20 ملین سے زائد آبادی والے شہر کراچی میں ایسے کئی علاقے تھے، جنہیں طالبان کا گڑھ سمجھا جاتا تھا اور اظفر محصر جس علاقے میں گاڑی دوڑا رہے ہیں، اسی علاقے کے بارے میں افغان خفیہ اداروں کا کہنا تھا کہ طالبان کا سربراہ ملا عمر اس علاقے میں رہتا رہا۔

گزشتہ کئی برسوں سے کراچی میں ’طالبانائزیشن‘ کی اصلاح کراچی میں تقریباﹰ ہر زبان پر ہے۔ خبر رساں ادارے اے ای پی کے مطابق اگر پاکستان اور افغانستان کے درمیانی سرحدی پہاڑی علاقے عسکریت پسندوں کے لیے میدان کار ہیں تو کراچی ان جنگجوؤں کے لیے چھپنے اور پیسے بنانے کی بہترین جگہ ہے۔

طالبان کراچی شہر میں پشتون آبادیوں کے اندر پناہ لے کر انہیں عملی طور پر ’نوگو ایریاز‘ میں تبدیل کرتے رہے ہیں اور وہاں کے مقامی رہائشیوں کو اغوا اور تشدد کے ذریعے دھمکاتے ہیں۔ تاوان کی رقم ان عسکریت پسندوں کو پھلنے پھولنے میں مدد دیتی رہی ہے۔

مگر پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ اب حالات تبدیل ہو چکے ہیں۔ ماضی کے فوجی افسر اور موجودہ اعلیٰ پولیس اہلکار محصر نے بتایا، ’’کراچی میں طالبانائزیشن دم توڑ چکی ہے۔‘‘

ان کا مزید کہنا تھا، ’’میں بڑے یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ شہر کے 70 تا 80 فیصد علاقوں سے ان کا صفایا کیا جا چکا ہے۔ اب کچھ باقی ماندہ عسکریت پسند ہیں، مگر اب ان میں اتنی طاقت نہیں کہ یہ دوبارہ ویسے ہی سرگرم ہو سکیں، جیسے ایک برس یا اس سے پہلے تھے۔‘‘

شہر کے انتہائی مغربی حصے میں طالبان کے اس مضبوط گڑھ کے مرکز منگھوپیر کے علاقے میں اب پولیس اہلکار خصوصی حفاظتی جیکٹوں میں اس پہاڑی علاقے کی ہر گلی کی تلاشی میں مصروف ہیں۔ محصر کے مطابق، ’’کسی دور میں یہ طالبان کا مقامی ہیڈکوارٹر ہوا کرتا تھا۔‘‘

خیال رہے کہ تحریک طالبان پاکستان کئی برسوں تک ملک بھر میں دہشت گردی کی درجنوں کارروائیوں میں ملوث رہی، تاہم گزشتہ برس دسمبر میں پشاور میں ایک اسکول پر حملے میں ڈیڑھ سو بچوں اور اساتذہ کی ہلاکت کے بعد ملک بھر میں ان عسکریت پسندوں کے خلاف آپریشن کا اعلان کیا گیا تھا۔