1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کراچی سٹاک ایکسچینج میں بیرونی حصّے داری سے متعلق بل

رواں ہفتے کے آغاز میں پاکستانی کابینہ نے ایک قانون کی منظوری دی جس کا پارلیمان میں پاس ہونا تقریبا طے ہے۔ یہ بل عوام اور بیرونی سرمایہ کاروں کو کراچی سٹاک ایکسچینج میں ساٹھ فیصد کی حصہ داری پیش کر سکتا ہے۔

default

دبئی بین الاقوامی مالی مرکز

کراچی سٹاک ایکسچینج کی سرمایہ کاری لگ بھگ چونسٹھ ارب امریکی ڈالر کے ہے۔ پاکستان کی وزیر برائے اطلاعات و نشریات شیری رحمان کے مطابق مذکورہ بل کے ذریعے گنے چُنے بروکرز کی چودھراہٹ ختم کرنے میں مدد ملے گی اور اس سے بہت سے اورلوگوں کو مارکیٹ میں سرمایہ داری میں حصّہ دار بننے کا موقع ملے گا۔

گزشتہ چھ دہائیوں سے کراچی بازارِ حصص دو سو بروکرز اور انکے خاندانوں کے کلب کی صورت ہے۔ ان خاندانوں پر مارکیٹ پر اجارہ داری رکھنے کا الزام ہے۔ بازارِ حصص میں رکنیّت حاصل کرنے کے لئے نئے ممبران کو ان بروکرز کو ایک بڑی رقم ادا کرنا پڑتی ہے۔ کراچی سٹاک ایکسچینج کے مینجنگ ڈائیریکٹر عدنان آفریدی کے مطابق اس بل کی منظوری کے بعد یہ رقم بہت کم ہو جائے گی۔ آفریدی نے مزید بتایا کہ کراچی سٹاک ایکسچینج کو مغربی مالی اداروں اور بڑی سٹاک ایکسچینجز سے کئی تحریری اور زبانی پیشکشیں موصول ہوئی ہیں لیکن تاحال انتظامیہ کسی پیشکش پر غور نہیں کر رہی ہے۔

تاہم سٹاک ایکسچینج کے ایک اعلٰی عہدےدار کے مطابق کراچی بازارِ حصص کی انتظامیہ دبئی انترنیشنل فائیننشل ایکسچینج کی پیشکش میں خاصی دلچسپی لے رہی ہے۔

سٹاک ایکسچینج کے مینجنگ ڈائیریکٹر عدنان آفریدی نے صرف اس قدر تصدیق کی ہے کہ دبئی سٹاک ایکسچینج کراچی بازارِ حصص میں دلچسپی دکھانے والے اداروں میں شامل ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ عوام کو بیس فیصد حصے داری کی پیشکش کی جائے گی اور چالیس فیصد کی پیشکش بیرونی سرمایہ کاروں کے لئے ہو گی۔ آفریدی کا کہنا تھا کہ پارلیمان سے اس بل کی منظوری کے بعد انکی ٹیم کومنصوبہ بندی اور روڈ شو کے انتظام کے لئے ایک سو بیس دن دئیے جائیں گے۔

دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستانی صدر پرویز مشرف کی امریکی امداد کے بعد کراچی سٹاک ایکسچینج انڈیکس نو سو پوائینٹس سے بڑھ کر پندرہ ہزار پوائینٹس تک پہنچ گئی تھی۔ لیکن صدر مشرف کے استعفے کےمطالبوں اورسیاسی غیر یقینی کی صرتحال کے باعث گزشتہ چھ ہفتے میں انڈیکس بائیس فیصد تک گر چکا ہے۔