1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کراچی ریلی: عمران خان کی سیاسی پوزیشن ’مزید مستحکم‘

پاکستان کے سابق کرکٹر عمران خان کی جماعت تحریک انصاف اتوار کو کراچی میں بڑے جلسے کے انعقاد میں کامیاب رہی ہے۔ خبررساں اداروں کے مطابق اس جلسے میں شرکاء کی کم از کم تعداد ایک لاکھ رہی۔

default

عمران خان

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اس جلسے نے حکومت پر دباؤ میں اضافہ کر دیا ہے جبکہ سیاسی طاقت کے طور پر عمران خان کی پوزیشن اور بھی مضبوط ہو گئی ہے۔

انسٹھ سالہ عمران خان صدر آصف زرداری کی حکومت کے خلاف عوام میں پائے جانے والے عدم اطمینان کو اپنی حمایت بڑھانے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔

پولیس کے مطابق جلسے کے شرکاء کی تعداد ایک لاکھ سے ڈیڑھ لاکھ کے درمیان رہی ہے۔ تاہم پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کا کہنا ہے کہ اس کے جلسے میں پانچ لاکھ سے زائد افراد شریک ہوئے۔

روئٹرز کا کہنا ہے کہ کم تر اندازوں کے لحاظ سے بھی حالیہ برسوں کے دوران یہ کراچی میں منعقد کیا جانے والا سب سے بڑا جلسہ تھا۔

اس دوران خطاب میں عمران خان نے کہا کہ وہ منتخب ہوئے تو کرپشن کا خاتمہ کریں گے۔ انہوں نے کہا: ’’ہمیں ایک ایسی حکومت کی ضرورت ہے، جو نظام کو بدلے اور بدعنوانی کو ختم کرے۔ لہٰذا اس کے لیے ہمیں پی ٹی آئی کو اقتدار میں لانے کی ضرورت ہے۔ سب سے پہلے کرپشن کو ہی ختم کرنے کی ضرورت ہے۔‘‘

عمران خان نے مزید کہا: ’’میں وعدہ کرتا ہوں کہ ہم بڑے پیمانے پر پائی جانے والی کرپشن نوّے دِن میں ختم کر دیں گے۔‘‘

Pakistan Präsident Porträt Asif Ali Zardari

پاکستان کے صدر آصف زرداری

ان کا یہ جلسہ ایسے وقت سامنے آیا ہے، جب پاکستان میں سیاسی بحران کی کیفیت ہے۔ میمو گیٹ اسکینڈل پر سویلین اور عسکری حکام کے درمیان کشیدگی بڑھ رہی ہے۔

روئٹرز کے مطابق ایسے آثار دکھائی دیتے ہیں کہ پاکستان کی طاقتور فوج صدر زرداری سے تنگ آ چکی ہے اور چاہتی ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے یا قبل از وقت الیکشن کے نتیجے میں وہ عہدہ چھوڑ دیں۔ آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی فوج کی جانب سے اقتدار میں آنے کی افواہیں مسترد کر چکے ہیں۔

رائے عامہ کے حالیہ متعدد جائزوں کے مطابق عمران خان پاکستان کے مقبول ترین سیاستدان ہیں۔ وہ شہری علاقوں میں بالخصوص مقبول ہیں۔ کراچی یونیورسٹی میں شعبہ بین الاقوامی تعلقات کے پروفیسر مطاہر احمد کہتے ہیں: ’’عوام اور ان کے ساتھ ساتھ سیاسی کارکن بہت مایوس ہو چکے ہیں، وہ (خان) اسی پہلو کو کیش کر رہے ہیں۔‘‘

رپورٹ: ندیم گِل / خبر رساں ادارے

ادارت: حماد کیانی

DW.COM