1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کراچی دہشت گردی کے بعد سکیورٹی الرٹس مشکوک

کراچی میں مذہبی انتہاپسندوں کے خلاف کام کرنے والی پولیس کے تفتیشی مرکز پر ہونے والے خودکش حملے نے ایک بار بھر شہر کی فضا کو دہشت زدہ کر دیا ہے۔

default

کراچی: 8 برسوں میں 8 خود کُش حملے

اس کے ساتھ ساتھ شہر کے ہائی سکیورٹی زون میں واقع اس دفتر پر اس دہشت گردانہ حملے نے تمام سکیورٹی الرٹس کی قلعی بھی کھول دی ہے۔ دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں پاکستان کی شمولیت کے بعد کراچی میں دہشت گردی کا آغاز شیرٹن ہوٹل کے سامنے فرانسیسی انجینئرز کی بس پر ہونے والے خود کش حملے سے ہوا تھا، جس میں گیارہ فرانسیسیوں سیمت چودہ افراد لقمہ اجل بنے تھے۔ گزشتہ آٹھ برسوں میں کراچی شہر کے باسی آٹھ خودکش حملوں سیمت دہشت گردی کی درجنوں وارداتوں کا سامنا کر چکے ہیں۔

Unruhen in Pakistan

کراچی میں ہنگامے آئے روز کا معمول

حکومت کی جانب سے مختلف اوقات میں دہشت گردوں کی گرفتاری سیمت مختلف اقدامات کے دعوے سامنے آتے رہتے ہیں تاہم گیارہ نومبر کی رات سندھ پولیس کے کرائمز انویسٹی گیشن ڈیپارٹمنٹ کی عمارت پر ہونے والے حملے نے جہاں ایک جانب شہر میں دہشت گردی کی وارداتوں میں ہونے والی تباہی کے تمام سابقہ ریکارڈ توڑ دئے، وہیں کراچی پولیس کی جانب سے گورنر ہاؤس اور چیف منسٹر ہاؤس سیمت اہم عمارتوں اور تنصیبات کی حفاظت کے لئے قائم کئے گئے ہائی سکیورٹی زون میں اس حملے نے اس سکیورٹی زون کی حقیقت بھی سب پر واضح کر دی ہے۔

Pakistan Gewalt Karachi

سکیورٹی کے باوجود دہشتگردانہ حملے

سندھ کے وزیر داخلہ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا پھر بھی بضد ہیں کہ دہشت گرد اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہوئے۔ سیاسی مخالفین کے غم میں مبتلا ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کے برعکس سندھ پولیس کے سربراہ صلاح الدین بابر خٹک پھر بھی قدرے حقیقت پسندی سے کام لیتے دکھائی دیتے ہیں۔ لیکن وہ بھی بظاہر ’تھوڑے سچ‘ کی پالیسی پر گامزن ہیں۔

دھماکے میں جاں بحق ہونے والے پولیس اہلکاروں کے نماز جنازہ میں شرکت کے بعد آئی جی سندھ پولیس کا کہنا تھا کہ حملے کی سی سی ٹی وی ریکارڈنگ موجود ہے۔

تمام تر دعووں کے برعکس حقیقت یہ ہے کہ پولیس کو نہ تو حملے میں استعمال کی گئی گاڑی کے مالک کا کوئی سراغ مل سکا ہے اور نہ ہی اس حملے میں ملوث ملزمان کا کوئی نشان۔ تفتیشی حکام صرف قیاس آرائیوں کی بنیاد پر مذہبی انتہا پسندوں کو اس حملے کا ذمہ دار قرار دے رہے ہیں۔

اگر واقعی یہ حملہ انتہا پسندوں کی جانب سے کیا گیا ہے تو یہ بھی ثابت ہو جاتا ہے کہ انتہا پسند نہ صرف کراچی میں موجود ہیں بلکہ اس قدر منظم بھی ہیں کہ اس طرح کے حملوں کے منصوبوں کو کامیابی سے عملی جامہ پہنا سکتے ہیں۔

رپورٹ: رفعت سعید

ادارت: عصمت جبیں

DW.COM

ویب لنکس