1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کراچی حملے پر امریکہ اور برطانیہ کا اظہارِ افسوس

امریکہ اور برطانیہ نے پاکستان کے شہر کراچی میں نیول بیس پر دہشت گردانہ حملے کی مذمت کی ہے۔ طالبان انتہاپسندوں نے اس فوجی اڈے پر اتوار کی شب حملہ کیا تھا، جس کے بعد سکیورٹی فورسز کو ان پر قابو پانے میں گھنٹوں لگے۔

default

امریکہ نے اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس سے دونوں ملکوں کے درمیان اختلافات کے باوجود تعاون کی ضرورت کا پتہ چلتا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان مارک ٹونر نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا، ’ہم دہشت گردی کے اس واقعے کی پرزور مذمت کرتے ہیں اور ہم اس طرح کی پرتشدد انتہاپسندی پر قابو پانے کے لیے مشترکہ کوششوں میں پاکستان کے ساتھ ہیں۔‘

انہوں نے بتایا کہ اس حملے میں کوئی امریکی اہلکار ہلاک یا زخمی نہیں ہوا۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ حملے کے وقت اس بیس پر گیارہ چینی اور چھ امریکی مینٹینس کانٹریکٹر موجود تھے، جنہیں باحفاظت نکال لیا گیا۔

برطانوی وزیر خارجہ ویلیم ہیگ نے پیر کو کراچی نیول بیس پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ لندن حکومت پرتشدد انتہاپسندی کے خلاف لڑائی میں پاکستان کے ساتھ ہے۔ انہوں نے کہا، ’میں کراچی میں فوجی اڈے پر حملے کی مذمت کرتا ہوں، جس کے نتیجے میں کئی اہلکار ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہوئے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ وہ متاثرہ خاندانوں کے دُکھ میں برابر کے شریک ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس حملے سے ایک مرتبہ پھر پاکستان کو مقامی شدت پسندوں کی جانب سے درپیش خطرہ کھل کر سامنے آیا ہے۔

کراچی میں نیول بیس پر حملے کی ذمہ داری طالبان نے قبول کی۔ اس حملے میں دس عسکری اہلکار ہلاک ہوئے جبکہ حملہ آوروں نے طیارے بھی تباہ کر دیے۔

William Hague Außenminister Großbritannien

برطانوی وزیر خارجہ ویلیم ہیگ

امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان مارک ٹونر نے کہا کہ اس حملے سے واشنگٹن اور اسلام آباد کے درمیان انسدادِ دہشت گردی کے لیے تعاون کی اہمیت ظاہر ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا، ’اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان کو ایسے گروپوں کی جانب سے بہت دباؤ اور خطرے کا سامنا ہے۔ انہیں (پاکستان کو) مشکل اٹھانی پڑ رہی ہے۔‘

بھارت نے بھی کراچی میں اتوار کے دہشت گردانہ حملے کے نتیجے میں جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ بھارتی وزیر داخلہ پی چدمبرم کا کہنا ہے کہ اس حملے سے ایک مرتبہ پھر یہ ظاہر ہوا کہ بھارت بحران زدہ ملک کا ہمسایہ ہے۔

رپورٹ: ندیم گِل/خبررساں ادارے

ادارت: عدنان اسحاق

DW.COM

ویب لنکس