1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

کراچی بین الاقوامی کتب میلے کا آغاز

چار روزہ گیارواں بین الاقوامی کتب میلہ کراچی میں شروع ہوگیا ہے۔ اس میلے میں آٹھ ممالک کے پبلشرز شرکت کر رہے ہیں جبکہ تین سو اسٹالز لگائے گئے ہیں۔ لیکن ماضی کے مقابلے میں اس مرتبہ شہریوں کی دلچسپی کم دیکھائی دے رہی ہے۔

اس کتب میلے کے منتظم عزیز خالد کے مطابق میلہ کراچی کا سالانہ ایونٹ بن چکا ہے جس میں نہ صرف کراچی بلکہ ملک بھر سے کتب بینی سے شغف رکھنے والے افراد کی دلچسپی کا سامان ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا، ’’دس سال قبل جب میلہ کے انعقاد کا آغاز کیا گیا تو اس وقت بہت سے مسائل کا سامنا رہا لیکن ہر سال پبلک اسپورٹ اور مختلف حلقوں کی دلچسپی بڑھتی گئی، جس کے باعث میلے کا سالانہ بنیادوں پر انقعاد ممکن ہوا۔ گزشتہ چند سالوں سے بیرونی ملکوں سے پبلشرز اور سیلرز باقاعدگی سے شرکت کررہے ہیں اور ہماری کوشش ہے کہ آئندہ برس ان پبلشرز کی شرکت یقینی بنائی جائے جو اس برس نہیں آسکے۔‘‘

میلے کے پہلے روز اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیز کے طلبہ و طالبات کی غیر معمولی تعداد نے ایکسپو سینٹر کا رخ کیا جن کی توجہ کا مرکز متعلقہ مضامین کے علاوہ لٹریچر سے متعلق کتب تھیں۔ ڈوئچے ویلے سے گفتگو کرتے ہوئے طالبہ و طالبات کا کہنا تھا کہ میلے کا سب سے زیاد کارآمد مقصد ہر قسم کی کتاب کا ایک ہی چھت کے نیچے دستیاب ہونا ہے۔ کتابوں کی قیمتیں بھی مارکیٹ سے کم ہیں خصوصاﹰ گفٹ پیک کی صورت میں فروخت ہونے والی کتابوں پر تو بہت زیادہ رعایت دی جارہی ہے۔

میلے کے انقعاد کے بنیادی مقاصد بیان کرتے ہوئے عزیز خالد نے بتایا، ’’اس کا مقصد بیرونی دنیا کو پاکستان کی کتابی صنعت سے آگہی فراہم کرنا اور کتاب سے دور ہوتی ہوئی نوجوان نسل کی دوبارہ کتاب سے دوستی کا مضبوط رشتہ قائم کرنا ہے۔‘‘

کتب میلے میں پاکستان کے مختلف شہروں سے پبلشرز کے علاوہ ایران، ترکی، سنگاپور، برطانیہ کے پبلشرز اور بک سیلرز شریک ہیں اور چین سے کتب فروش ویزہ مسائل کی وجہ سے بروقت نہیں پہنچ سکے۔

میلے کا افتتاح کرنے والے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے افتتاحی تقریب سے خطاب میں کہا کہ کتاب ہی وہ واحد ذریعہ ہے، جس سے دوستی کے ذریعے نوجوان دنیا بھر پر راج کر سکتے ہیں۔ ایسے میلے اندرون سندھ میں بھی منعقد کیے جانا چاہییں جبکہ حکومت سندھ اس سلسلے میں بھرپور تعاون فراہم کرے گی۔

مقامی پبلیشرز کے مطابق میلے میں ہر قسم کی کتابیں دستیاب نہیں تاہم انٹرنیٹ کے فروغ کے باعث ان کے کاروبار پر منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں جبکہ کاپی رائٹ قانون کی پابندی نہ ہونے کی وجہ سے بھی کتابوں کی فروخت اس سطح پر نہیں ہے جس طرح دیگر ممالک میں ہے۔ البتہ میلے میں شرکت کی وجہ سے بین الاقوامی پبلشرز اور کتب فروشوں کے مابین رابطے آسان اور مستحکم ہوتے ہیں جو کاروبار بڑھانے کے لئے مددگار ثابت ہوتے ہیں۔

میلے میں شرکت کے باعث ہر سال پانچ ہزار سے زائد قرآن مجید برطانیہ، امریکا اور یورپ برآمد ہوتے ہیں۔ مقامی پبلشرز کے مطابق امریکا اور یورپ میں قرآن کریم کے لئے متعارف کرایا گیا حروف تہجی کا فونٹ غیر معمولی طور پر پسند کیا جارہا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق لٹریچر فیسٹیول اور اردو کانفرنس کی طرح کتب میلہ بھی کراچی کی ثقافتی زندگی میں اہم جزو کی حیثیت اختیار کر چکا ہے، جس کے ذریعے نہ صرف کتاب دوستوں اور حصول علم کے لیے کوشاں افراد مستفید ہوتے ہیں بلکہ اس سے بیرونی دنیا میں کراچی کا منفی تاثر بھی زائل کرنے میں مدد مل رہی ہے۔

پبلیشرز کہتے ہیں کہ میلے کا آغاز پر شرکاء کی تعداد کم رہی لیکن توقع ہے کہ ویک اینڈ پر شرکاء کی تعداد میں نہ صرف اضافہ ہوگا بلکہ کتب بینی کے شوقین افراد بڑی تعداد میں میلے میں شرکت کریں گے۔