1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کراچی آپریشن اور فوج کا دو ٹوک موقف

وزیر اعظم نواز شریف ایم کیو ایم کو راضی کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں تا کہ پارلیمانی نظام کا پہیہ چلتا رہے دوسری جانب آج آرمی چیف نے ایک بار پھر واضح کردیا ہے کہ کراچی میں آپریشن بلا تفریق جاری رہے گا۔

آج کراچی میں امن و امان سے متعلق اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے موجودہ صورت حال پر اطمینان کا اظہار کیا اور بحالی امن کے لئے انٹیلیجنس اداروں کی کارکردگی کو سراہا۔ انہوں نے کراچی کو پر امن بنانے کے لئے دہشت گردوں، جرائم پیشہ مافیاز، بدعنوانوں اور تشدد کرنے والوں کے درمیان ’شیطانی گٹھ جوڑ‘ کو توڑنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے دہشت گردی کے مقدمات جلد نمٹانے کے لئے فوجی عدالتوں کی تعداد میں اضافے کی منظوری بھی دی ہے۔ بری فوج کے سربراہ سانحہ صفورا میں پولیس کی کارکردگی کو بھی نہیں بھولے اور پولیس کی تکینکی صلاحیتوں کو بڑھانے کے لئے ساڑھے چھ کروڑ روپے دینے کا اعلان بھی کیا۔

لیکن دوسری طرف کراچی کی صورت حال ماضی کی طرف بڑھتی دکھائی دے رہی ہے۔ کئی ہفتوں کے وقفے کے بعد گزشتہ ہفتے ایک پولیس اہلکار کو قتل کیا گیا۔ ایک روز پہلے آئی جی جیل خانہ جات کے اسکواڈ پر نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے فائرنگ کی اور پھر آج صدر جیسے مصروف علاقے میں دن دہاڑے پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کر کے ایک کو قتل اور دوسرے کو زخمی کردیا گیا۔

ذرائع کے مطابق گلشن اقبال میں حساس ادارے کے چھاپے کے دوران، جو دو مبینہ دہشت گرد مارے گئے تھے ان کے گروہ کے کئی ارکان اب بھی شہر میں موجود ہیں۔ ہلاک ہونے والوں کے کمپیوٹرز سے جو معلومات حاصل ہوئی ہیں ان کے مطابق ’دہشت گردوں‘ نے بڑی وارداتوں کی منصوبہ بندی کر رکھی ہے، جس کے باعث مستقبل قریب میں ٹارگٹ کلنگ میں اضافے کا خدشہ ہے جبکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے ان کا اوّلین ٹارگٹ ہیں۔

حساس اداروں کے افسران کے مطابق اس مرتبہ ’مسلح افراد‘ نے صرف اپنی تکینیک ہی نہیں بلکہ حلیے بھی تبدیل کئے ہیں۔ پاکستان مخالف کئی ممالک کی ایجنسیاں حکومت مخالف عناصر کی مالی معاونت کررہی ہیں اور ان کا ہدف تعلیم یافتہ نوجوان ہیں جو نہ صرف فیشن ایبل ہیں بلکہ پوش علاقوں میں رہتے ہیں اور ان کو تلاش کرنا انتہائی مشکل امر ہے۔

ذرائع کے مطابق کراچی میں اس وقت دو طرح کے مسلح گروپ سرگرم ہیں پہلے وہ جو القاعدہ برصغیر چیپٹر سے وابستہ ہیں اور دوسرے وہ جو داعش کے نظریے سے متاثر ہیں۔ القاعدہ کے مقابلے میں داعش سے متاثرہ گروہ کے پاس پیسے کی فراوانی ہے اور ان کی جانب تعلیم یافتہ نوجوانوں کی توجہ زیادہ ہوسکتی ہے۔

مبصرین کے مطابق ایسی صورت حال میں حکومت ایم کیو ایم کو زیادہ ریلف دینے کی پوزیشن میں نہیں اور نہ ہی ایم کیو ایم محاذ آرائی کی سیاست کی متحمل ہو سکتی ہے۔