1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

کرائیسلر اور جنرل موٹرز دیوالیہ پن کے دہانے پر

جنرل موٹرز اور کرائیسلر جیسے بڑے بڑے امریکی کارساز ادارے ابھی تک اتنی مالی پریشانیوں کا شکار ہیں کہ دیوالیہ پن سے بچنے کے لیے انہوں نے امریکی حکومت سے ہنگامی بنیادوں پر اربوں ڈالر کی اضافی مدد کی درخواست کی ہے۔

default

دیوالیہ پن سے بچنے کے لیے کرائیسلر اور جنرل موٹرز جیسے بڑے امریکی کار ساز اداروں نے حکومت سے مزید مالی مدد کی درخواست کی ہے

کرائیسلر کا کہنا ہے کہ اسے اپنے دیوالیہ پن سے بچنے کے لیے کل نو بلین ڈالر کی مدد کی ضرورت ہے جس میں اس نے واشنگٹن حکومت کو پانچ بلین ڈالر کی فراہمی کی درخواست پہلے ہی دے دی ہے۔

Chrysler-Chef Dieter Zetsche und Tyrone Scott

کرائیسلر کا کہنا ہے کہ اسے اپنے دیوالیہ پن سے بچنے کے لیے نو بلین ڈالر کی مدد کی ضرورت ہے

ڈیٹرائٹ میں اس موٹر ساز ادارے کی انتظامیہ نے وزارت خزانہ کو اپنی مالی حالت بہتر بنانے کے لیے جس مجوزہ منصوبے کی تفصیلات فراہم کی ہیں اس کے مطابق یہ ادارہ اپنے ہاں روزگار کے مزید تین ہزار مواقع ختم کردے گا اور ساتھ ہی اپنی کم از کم چار مختلف ماڈلوں کی نئی گاڑیاں تیار کرنا بھی بند کردے گا۔ گذشتہ بر س کرائسلر کو آٹھ بلین ڈالر کے کاروباری خسارے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

Hauptquartier General Motors in Detroit

جنرل موٹرز کے مطابق دیوالیہ پن سے بچنے کے لیے اسےفوری طور پر تقریباً سترہ ارب ڈالر کی ضرورت ہے

دوسری امریکی موٹر ساز کمپنی جنرل موٹرز کے حال بھی اچھے نہیں ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے تک جنرل موٹرز کو دنیا میں موٹر گاڑیاں تیار کرنے والی سب سے بڑی کمپنی ہونے کا اعزاز حاصل تھا لیکن اب اس کی مالی حالت اتنی خراب ہوگئی ہے کہ اسے سال دو ہزار نو کے لئے تقریباً سینتالیس ہزار ملازمتیں ختم کرنے کا منصوبہ بنانا پڑا۔

Tata Nano auf Autosalon in Neu Delhi Indien

بھارتی کار ساز کمپنی ٹاٹا نے نینو نامی کار لانچ کرتے وقت بتایا کہ اس کی قیمت ایک لاکھ روپے ہوگی اور کم آمدنی والے طبقے بھی بغیر کسی پریشانی کے اس گاڑی کو خرید سکیں گے

اس کا مطلب یہ ہوا کہ کئی عشروں تک عالمی نمبر ایک موٹر کار کمپنی نے اپنے ہر پانچویں ملازم کو روزگار سے برطرف کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

کرائیسلر کی طرح جنرل موٹرز بھی ماضی قریب میں امریکی حکومت سے اربوں مالیت کی ہنگامی امداد وصول کرچکا ہے لیکن اب اس نے بھی دیوالیہ پن سے بچنے کے لیے حکومت کو اضافی رقوم کی فراہمی کی درخواست دی ہے۔

جنرل موٹرز کا کہنا ہے کہ اسے کل سولہ اعشاریہ چھہ ارب ڈالر کی فوری ضرورت ہے اور اگر فوری طور پر اس کی مدد نہیں کی گئی تو اس سال مارچ میں یہ کمپنی اپنے ذمہ قانونی ادائیگوں کے قابل نہیں رہے گی۔