1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’کرائم منسٹر نواز شریف یا ہمارا فخر نواز شریف‘

گزشتہ روز پاکستان کے وزیر اعظم پاناما لیکس کے حوالے سے تحقیقات کرنے والی جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوئے۔ سوشل میڈیا پر جہاں وزیر اعظم کے اس قدام کو سراہا گیا تو کئی افراد نے انہیں تنقید کا نشانہ بھی بنایا۔

یہ پہلا موقع ہے کہ ملک کے منتخب وزیرِ اعظم کسی ایسی تحقیقاتی کمیٹی کے سامنے پیش ہوئے ہیں۔ نواز شریف بغیر پروٹوکول کے اپنے بھائی شہباز شریف اور خاندان کے کچھ افراد کے ساتھ جوڈیشل اکیڈمی پہنچے۔ تاہم وہ اکیلے ہی اکیڈمی کی حدود میں داخل ہوئے۔

پاکستان کے وزیر اعظم کی جانب سے جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہونے کے بعد سے سوشل میڈیا پر  ’کرائم منسٹر شریف‘ ہیش ٹیگ ٹرینڈ کر رہا ہے تو اسی کے مقابلے میں کئی افراد ہیش ٹیگ ’نوازشریف از مائی پرائڈ‘ استعمال کر کے نواز شریف کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کر رہے ہیں۔

فیس بک کی صارف گلالئی اسماعیل نے فیس بک پر لکھا،''میں پاکستان کے منتخب وزیر اعظم کے ساتھ کھڑی ہوں۔ انہوں نے دنیا کو بتا دیا ہے کہ عوام کے ووٹ سے منتخب ہونے والے وزیراعظم اور ملک کے ایک ایسے صدر میں کیا فرق ہوتا ہے جس نے طاقت کے زور پر ملک کی صدارت حاصل کی ہو۔‘‘

ایک اور فیس بک صارف ثنا اعجاز نے اپنے فیس بک اکاؤنٹ پر لکھا،’’ ہمیشہ سویلین حکومت کے نمائندگان عدالتوں  کے سامنے پیش ہوتے ہیں۔ آمر کبھی بیمار ہو جاتے ہيں، کبھی ملک سے فرار ہوجاتے ہیں اور پھر اپنی رقص کرتے ہوئے ویڈیو کو سوشل میڈیا پر پوسٹ کر دیتے ہیں۔‘‘

تجزیہ کار مشرف زیدی نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر لکھا،’’ وزیر اعظم نے جے آئی ٹی میں حاضری کے بعد اپنے ناقدین سے خطاب نہیں کیا۔ ان کا پیغام بالکل بھی درست طریقے سے پیش نہیں کیا گیا۔‘‘

قاصد علی نے اس حوالے سے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر لکھا،’’ دنیا بھر میں پاناما لیکس میں ملوث رہنماؤں نے عوام کے دباؤ کے باعث اپنے عہدوں کو چھوڑ دیا لیکن ہم ایک سوئی ہوئی قوم ہیں۔‘‘

پاکستانی وزیراعظم کے ترجمان ڈاکٹر مصدق ملک نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر لکھا،’’وزیراعظم جے آئی ٹی میں بغیر کسی سکیورٹی پروٹوکول کے گئے۔ جمہوریت کا ایک نیا معیار قائم کر دیا گیا ہے۔‘‘ تاہم دوسری جانب صحافی مطیع اللہ جان کی جانب سے فیس بک پر پوسٹ کی جانے والی ایک ویڈیو کافی مرتبہ شیئر کی گئی جس میں انہوں نےدکھایا کہ شفا انٹرنیشل ہسپتال کے ایمرجنسی وارڈ کو جانے والے راستے کو پولیس کی ایک گاڑی سے بند کر دیا گیا ہے اور مریضوں کو ہسپتال پہنچنے میں مشکل ہو رہی ہے۔

ملتے جلتے مندرجات