1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کثيرالقومی کمپنيوں کی مقامی آبادی پر زيادتياں

کثيرالقومی کمپنيوں پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے کہ وہ انسانی حقوق کا احترام کريں۔ خاص طور پر ترقی پذير ملکوں ميں ملٹی نيشنل فرمز کے ملازمين اور مقامی آبادی کو عالمگيريت کی بھاری قيمت ادا کرنا پڑ رہی ہے۔

فلپائن ميں نا انصافيوں کے خلاف مظاہرہ

فلپائن ميں نا انصافيوں کے خلاف مظاہرہ

ريمنڈ سالاس فلپائن کے جزيرے منڈاناؤ کے ايک فرض شناس وکيل ہيں۔ وہ ايک ايسے ادارے کے رکن بھی ہيں، جو انسانی حقوق کی زيادتيوں کا نشانہ بننے والوں کو مشورے ديتا اور اُن کی مدد کرتا ہے۔

جزيرے پر کيلوں کے ايک فارم کے قريب رہنے والے خوش قسمت ہيں کہ يہ ادارہ کام کر رہا ہے۔ کيلوں کے اس فارم کے مالک نے حال ہی ميں جہازوں کے ذريعے اپنے فارم پر ايک کيڑے مار دوا چھڑکوائی تھی اور يہ دوا قريب کی بستی پر بھی چھڑکی گئی تھی۔ سالاس نے کہا: ’’جب بھی يہ دوا چھڑکی گئی، اُن کی جلد پر سرخ دھبے پڑ گئے، آنکھيں سوج گئيں اور سانس لينے ميں مشکل ہونے لگی۔ اُن کے اپنے سبزی کے پودے مرجھا گئے اور پانی کے ذخائر گندے ہو گئے۔‘‘

ليپا سٹی، فلپائن کے ايک مکان کی کھڑکی سے دکھائی دينے والا منظر

ليپا سٹی، فلپائن کے ايک مکان کی کھڑکی سے دکھائی دينے والا منظر

سالاس نے مزيد بتايا کہ مقامی حکام نے اپنے شہريوں کی صحت اور بنيادی حقوق کے تحفظ کے ليے سب کچھ کيا۔ اُس نے فارم کے مالک کو فضا سے دوا چھڑکنے سے روک ديا اور صرف زمينی کارکنوں کے ذريعے کم مقدار ميں دوا چھڑکنے کی اجازت دی۔ ليکن فارم کے مالک نے اسے اپنے حقوق ميں مداخلت سمجھا اور عدالت کا رُخ کيا، جہاں پہلے مقامی انتظاميہ اور شہريوں کو کاميابی ملی۔ ليکن سالاس نے کہا کہ منڈاناؤ پر کيلوں کی کاشت Dole اور Del Monte جيسی بڑی امريکی کمپنيوں کے ہاتھ ميں ہے اور اُن کے کيڑے مار ادويات تيار کرنے والی بڑی کمپنيوں کے ساتھ روابط ہيں۔ اُنہوں نے برطانيہ سے ايک ماہر کو بلوايا، جس نے کہا کہ چھڑکی جانے والی دوائيں بالکل محفوظ اور غير مضر ہيں۔

کيلوں کا فارم

کيلوں کا فارم

سالاس کو اس ماہر کے بيان پر يقين نہيں ہے، ليکن مقامی انتظاميہ اور شہريوں کو اگلی عدالت ميں ناکامی کا منہ ديکھنا پڑا اور اب اُنہيں صرف سپريم کورٹ سے انصاف کی اميد ہے۔ ليکن اس دوران جہازوں سے کيڑے مار ادويات چھڑکنے کا سلسلہ جاری ہے۔

افريقہ اور ترقی پذير ملکوں ميں مزدوروں کی شرائط کار بہت سخت ہيں۔ اجرتيں بہت کم ہيں اور لوگوںسے جبراً صنعتکاروں کے ليے علاقے بھی خالی کرائے جاتے ہيں۔ اگر انسانی حقوق کے کارکن شہريوں کی مدد کو آتے ہيں، تو اُنہيں جھوٹے الزامات لگا کر عدالتوں ميں پيش کيا جاتا اور سزائيں بھی دلائی جاتی ہيں۔

رپورٹ: اُلريکے ماسٹ کرشننگ / شہاب احمد صديقی

ادارت: مقبول ملک

DW.COM