1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

کتے کی پرتشدد ہلاکت کے جرم میں ایرانی شہری کو کوڑوں کی سزا

ایران میں ایک شہری کو ایک کتے پر تشدد کرنے اور پھر اس کی جان لے لینے کے جرم میں چوہتر کوڑے مارے جانے کی سزا سنا دی گئی ہے۔ ایرانی نیوز ایجنسی ’میزان‘ کے مطابق ملزم کے جرم کی ایک آن لائن ویڈیو سے بھی تصدیق ہو گئی تھی۔

تہران سے بدھ چھ اپریل کو ملنے والی نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ اس ملزم کو اس سال کے اوائل میں شمال مغربی صوبے اردبیل سے گرفتار کیا گیا تھا اور اس کے خلاف مقدمہ جانوروں پر تشدد کے خلاف فعال کارکنوں کے علاوہ تحفظ ماحول کے لیے سرگرم ایک مقامی تنظیم کے سربراہ نے بھی درج کرایا تھا۔

ایرانی عدلیہ سے قربت رکھنے والے خبر رساں ادارے ’میزان‘ نے بتایا کہ ملزم کے جرم کی تصدیق عدالت میں پیش کیے گئے دیگر دلائل کے علاوہ اس آن لائن ویڈیو سے بھی ہو گئی تھی، جو سوشل میڈیا پر بڑی تیزی سے پھیل گئی تھی۔

اس ویڈیو میں دیکھا جا سکتا تھا کہ کس طرح اس ایرانی باشندے نے پہلے کئی بار ایک کتے کو اپنی کار پر دے مارا اور پھر اسے ایک بیلچے سے پیٹتے ہوئے اس کی موت کی وجہ بنا۔ ’میزان‘ نے لکھا ہے، ’’عدالت نے اپنے فیصلے میں ملزم کو کوڑے مارے جانے کی سزا سنانے کے ساتھ یہ حکم بھی دیا کہ اسے سال بھر کے لیے ہر ہفتے ایک ایسے تربیتی پروگرام میں حصہ بھی لینا ہوگا، جس کے ذریعے وہ یہ سیکھ سکے کہ جانوروں سے محبت سے کیسے پیش آتے ہیں؟‘‘

عدالتی دستاویزات کے مطابق اس کتے کو انتہائی بے دردی سے ہلاک کرنے والا یہ ملزم بظاہر اس جانور کا مالک بھی تھا تاہم ’میزان‘ نے یہ نہیں بتایا کہ اس نے اتنے پرتشدد طریقے سے اس کتے کی جان کیوں لی؟

اے ایف پی کے مطابق اردبیل میں پیش آنے والا یہ واقعہ ملک میں ان متعدد واقعات میں سے ایک تھا، جن میں مختلف جانوروں پر تشدد کیا گیا تھا، اور جن کی ویڈو ریکارڈنگز مختلف صارفین کی طرف سے آن لائن پوسٹ کر دی گئی تھیں۔

ایران میں تحفظ ماحول کی قومی تنظیم کی سربراہ ملک کی خاتون نائب صدر معصومہ ابتکار ہیں، جو کئی بار جانوروں پر تشدد اور ان سے ظالمانہ سلوک کے ایسے واقعات کی بھرپور مذمت کر چکی ہیں۔

گزشتہ برس اپریل میں معصومہ ابتکار کو اس وقت ایک ایسی مختصر ویڈیو فلم کے باعث جامع تحقیقات کا حکم دینا پڑ گیا تھا، جس میں دیکھا جا سکتا تھا کہ کس طرح بہت سے لاوارث کتوں کو انتہائی ظالمانہ انداز میں ہلاک کر دیا گیا تھا۔ یہ ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر ’وائرل‘ ہو گئی تھی، جس کے بعد ایرانی نائب صدر ابتکار کے دفتر کے باہر بہت سے شہریوں نے احتجاجی مظاہرے بھی شروع کر دیے تھے۔