1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

کتا ڈاکیے کا سب سے بڑا دشمن

جرمنی میں ہر سال کتوں کی طرف سے ڈاکیوں کوکاٹے جانے کے تقریباً 600 واقعات رونما ہوتے ہیں۔ جرمن پوسٹ نے کتوں کی طرف سے ڈاکیوں کو درپیش خطرات کے موضوع پر ایک سیمینار کا اہتمام کیا۔

default

جرمن پوسٹ کے اس سیمینار کا اصل مقصد ڈاک تقسیم کرنے والے خواتین و حضرات کو یہ سمجھانا تھا کہ کس طرح کتے سے محفوظ رہا جا سکتا ہے تاکہ کاٹے جانے کے واقعات کو کم کیا جا سکے۔ یہ سیمینار جرمن شیفرڈ کلب کے زیر نگرانی منعقد ہوا۔ اس کلب نے تربیت حاصل کرنے والے افراد کو تحریری اور عملی طور پر سمجھایا کہ کس طرح اپنے آپ کو اس چوپائے سے بچایا جا سکتا ہے۔ جرمن شیفرڈ کلب کے اس کمرے میں سولہ افراد بیٹھے ہیں۔ نیلے اور زرد رنگ کی یونیفارم میں ملبوس یہ افراد مستقبل کے ڈاکیے ہیں۔ اس سیمینار میں انہیں یہ سمجھایا گیا کہ کام کے دوران کتوں سے کس طرح محفوظ رہا جاتا ہے۔ اجنبی کتے کو سامنے پا کر ردعمل کیا ہونا چاہیے؟ اور اسے کس طرح بہلایا جلا سکتا ہے؟۔

Warnung vor dem Hund

یہ امر ابھی تک غیر واضح ہے کہ آخر کتے پوسٹ مین کو دیکھ کر کیوں بے چین ہو جاتے ہیں؟

اس سیمینار میں شریک اسٹیفن زیسمان کا کہنا ہے کہ خطوں کی تقسیم کے دوران عین ممکن ہے کہ کسی کتے سے بھی واسطہ پڑ جائے اور وہ آپ پر نہ صرف بھونکے بلکہ کاٹنے کو بھی دوڑ پڑے۔ زیسمان نے بتایا ’’ایک مرتبہ خط پہنچانے کے دوران ایک خاتون اپنے کتے کے ساتھ باہر کھڑی تھیں۔ ان کا کتا میرا پاس آیا اور مجھے سونگھنے لگا۔ اس نے اُسی جگہ سونگھا، جہاں پر اس نے بعد میں کاٹا۔ میں جیسے ہی واپسی کے لیے پلٹا تو کسی شے نے میری پتلون کو پکڑ لیا۔ میں نے غرانے کی آواز سنی اور اس نے یک دم مجھے کاٹ لیا‘‘۔

اس سیمینار کے نگران جرمنی میں شیفرڈ نسل کے کتوں کے کلب کے سربراہ رولف اسٹووے تھے۔ یہ امر ابھی تک غیر واضح ہے کہ آخر کتے پوسٹ مین کو دیکھ کر کیوں بے چین ہو جاتے ہیں؟ اس کمرے میں ایک شیفرڈ نسل کا کتا بھی موجود تھا، جس پر تمام شرکاء نے ایک مرتبہ ہاتھ پھیرا۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ اگر کسی کو کتے سے خوف ہے، تو وہ دور ہو جائے۔ انہوں نے اپنے کتے کو کمرے میں یہ کہتے ہوئے ایک چکر دلایا کہ کتے سے خوفزدہ ہونے سے فائدہ نہیں، نقصان ہوتا ہے۔

BdT Deutschland Wetter Schnee in Stuttgart Briefträgerin

اس سیمینار میں ڈاکیوں کو یہ سمجھایا گیا کہ کام کے دوران کتوں سے کس طرح محفوظ رہا جاتا ہے۔

اسٹووے کے مطابق 98 فیصد کتے کاٹنے سے گھبراتے ہیں لیکن بقیہ2 فیصد کے لیے یہ کوئی مسئلہ نہیں ہوتا۔ ضروری یہ ہے کہ کتے کا سامنا پرسکون انداز میں کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ جب کوئی شخص خوفزدہ ہو جاتا ہے، تو کتا اپنے سونگھنے کی صلاحیت سے اس خوف کو محسوس کر لیتا ہے۔’’ ہم جتنا زیادہ خوفزدہ ہوں گے، اسے اتنا ہی غصے آئے گا۔ ایسے مواقع پر خبردار اور چوکنا رہنا چاہیے‘‘۔ اسٹووے نے مزید بتایا کہ بہت سے کتوں کو حملہ کرنے کی تربیت دی جا چکی ہوتی ہے۔ اس حوالے سے ایک معمولی سی بھی غلط حرکت ایسے کتوں کو شدید غصہ دلا سکتی ہے۔

رپورٹ: عدنان اسحاق

ادارت: امجد علی