1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کب تک سوگ منائیں گے ؟

پاکستان میں پانچ روز کے اندر دس دہشت گردانہ حملے ہو چُکے جن میں قریب 100 لوگوں کو موت کے گھاٹ اُتار دیا گیا۔ حکام ’خون کے ہر قطرے کا حساب لینے‘ کا اعلان کر چکے، لیکن بےگناہوں کا خون کب تک بہے گا؟ کشور مصطفیٰ کا تبصرہ

'حیراں ہوں، دل کو روؤں کہ پیٹوں جگر کو میں‘ پاکستانی عوام بھی کچھ ایسی ہی صورتحال سے دوچار ہے۔ رواں ہفتے کا آغاز ہی ملک کے ثقافتی مرکز لاہور میں ادویات کے کاروبار سے منسلک افراد کی طرف سے حکومت کے نئے ڈرگ ایکٹ کے خلاف ہڑتال کرنے والوں کے احتجاجی مظاہرے کے دوران ہونے والے خود کُش حملے سے ہوا جس میں ایک درجن سے زائد افراد ہلاک اور 70 کے قریب زخمی ہوئے۔ تحریک طالبان پاکستان سے علیحدہ ہونے والے عسکرت پسند گروپ جماعت الاحرار نے اس دہشت گردانہ حملے کی ذمہ داری قبول کی۔ اس کے ایک روز بعد 14 فروری کو پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں ایک بم کو ناکارہ بناتے ہوئے اُس کے  پھٹ جانے کے نتیجے میں  دو پولیس اہلکار ہلاک اور 14 دیگر افراد زخمی ہو گئے۔ 15 فرروری کو صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور اور قبائلی علاقے مہمند ایحنسی میں شدت پسندی کے دو واقعات میں تین اہلکاروں سمیت کم از کم چھ افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔16 فروری یعنی جمعرات کی صبح بلوچستان کے ضلع آواران میں ایک فوجی قافلے پر دیسی ساخت کے بم سے حملہ کیا گیا جس میں تین فوجیوں اور چار پولیس اہلکاروں سمیت آٹھ افراد ہلاک ہوئے۔ اور جمعرات ہی کی شب خیبر پختونخوا کے جنوبی ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں پیش آنے والے ایک واقعے میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے چار پولیس اہلکاروں سمیت پانچ افراد ہلاک ہوگئے۔

Mustafa Kishwar Kommentarbild App

کشور مصطفیٰ، سربراہ ڈی ڈبلیو اردو

لیکن پاکستانی عوام کے لیے سب سے بڑے صدمے اور خوف کا باعث صوبہ سندھ کے علاقے سیہون میں واقع معروف صوفی لال شہباز قلندر کے مزار پر ہونے والا خود کُش بم حملہ بنا جس نے ایک زور دار دھماکے کے ساتھ اس درگاہ پر موجود تصوف، وجدان اور عشق حقیقی کے نشے میں ڈوبے ہوئے لاتعداد انسانوں میں سے 80  سے زائد کو لقمہ اجل بنا دیا اور سینکڑوں کو جسمانی طور پر اور پوری قوم کو ذہنی اور جذباتی طور پر زخموں سے چور چور کر دیا۔ سیہون شریف کی درگاہ ہو یا اس جیسے دیگر صوفیا کے مزار، ان آستانوں پر آنے والے روحانی سکون، دنیا و مافیہا سے بے خبر ہو کر کچھ دیر کے لیے خود کو کسی اور دنیا میں محسوس کرنا چاہتے ہیں، جہاں کوئی مسلم، غیر مسلم، سُنی، شیعہ، بریلوی اور دیوبندی نہیں ہوتا، بلکہ ان مسلم صوفیا کے مزار پر ہندو، عیسائی یہاں تک کہ مذہبی وابستگی سے بالاتر ہو کر لادینیت پر یقین رکھنے والے بھی آیا کرتے ہیں۔ لمحہ فکریہ تو یہ ہے کہ سیہون کے مزار پر جمعرات کے روز عین اُس وقت جب دھمال اور رقص کا سرورعروج پر تھا، اس مجمعے میں اتنا تباہ کُن دھماکہ خیز مواد لے کر حملہ آور داخل کیسے ہوا؟ پاکستان میں جب سے مذہبی انتہا پسندی کا بازار گرم ہے تب سے صوفیا کے مزاروں سمیت دیگر مذہبی مقامات کو نام نہاد سکیورٹی بھی فراہم کی گئی ہے اور کہیں پولیس اور کہیں رینجرز کا پہرہ بھی ہوتا ہے۔ ان مزاروں پر نہ صرف روحانی پیاس بجھانے کی خاطر زائرین آیا کرتے ہیں بلکہ یہاں پر رات دن بٹنے والا لنگر نہ جانے کتنے انسانوں کی بھوک مٹانے کا بھی ذریع بنتا ہے۔

گزشتہ دو برسوں کے دوران پاکستان میں دہشت گردانہ حملوں کی شرح میں نمایاں کمی دیکھنے میں آ رہی تھی۔ فوج کا دعویٰ ہے کہ یہ اُس کی کاوشوں کا نتیجہ تھا اور حکومت اسے ملک میں خوشحالی اور ترقی کی ضمانت کہہ رہی تھی۔ سرحد پار دہشت گردوں اور غیر ملکی عناصر کی کارروائیاں، پاکستان کے دشمنوں کی سازش اور بہت سے دیگر عوامل کو پاکستان میں شمال سے جنوب تک وقتاً فوقتاً پھیلنے والی دہشت گردی کی آگ کا ذمہ دار ٹھرایا جاتا رہا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ گھر کے اندر پائے جانے والے شدت پسندوں، مذہب کے نام پر وحشیانہ نظریات کی پرچار کرنے والوں اور انتہا پسندی کا پلیگ پھیلا کر اپنی دکانداری چمکانے والے عناصر کو بے نقاب کرکے انہیں انجام تک نہ پہنچانے کا ذمہ دار کون ہے؟ اگر دہشت گرد پاکستان کی سرحدوں میں داخل ہو رہے ہیں تو ان پر نظر رکھنا کس کا کام ہے؟ اگر عسکریت پسندوں نے ملک میں ٹھکانے بنا رکھے ہیں تو انہیں کون اورکب ختم کرے گا؟ سب سے بڑھ کر یہ کہ اتنی جانوں کے ضیاع کے بعد ہی نیشنل ایکشن پلان پر زور دینا کیا معنی رکھتا ہے؟

PAKISTAN Sehwan Anschlag auf Sufi-Schrein (Getty Images/AFP/A. Hassan)

پاکستانی عوام کے لیے سب سے بڑے صدمے اور خوف کا باعث صوبہ سندھ کے علاقے سیہون میں واقع معروف صوفی لال شہباز قلندر کے مزار پر ہونے والا خود کُش بم حملہ بنا

’پاک چین اکنامک کوریڈور‘ کے ذریعے حکومت ملک میں خوشحالی لانے کا دعویٰ کر رہی ہے۔ کیا امن و سلامتی کے بغیر ملک میں خوشحالی ممکن ہو سکتی ہے؟ کیا ایک خاص مذہبی لابی کی سوچی سمجھی سازش کے تحت پاکستانی قوم کے اذہان کو بند کرنے کے لیے تعلیمی اور سماجی سطح پر جو کچھ ہو رہا ہے، اُس کے بعد سیہون شریف جیسے واقعے کا ہونا کوئی انہونی بات ہے؟ کیا لشکر جھنگوی، جماعت الاحرار اور اس جیسی دیگر عسکریت پسند جماعتوں کے مٹھی بھر سرگرم کارکنوں کو ہلاک کرنے سے ملک سے انتہا پسندی کا خاتمہ ہو جائے گا؟ یہ اور ایسے دیگر سوالات پاکستان کا ہر باشعور شہری کر رہا ہے، مگر صرف اپنے آپ سے کیونکہ کُھل کر ان باتوں کی جسارت کرنا بہت سوں کے لیے ممکن نہیں۔

ملتے جلتے مندرجات