1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کانگو کے دو ’وار لورڈز‘ کے خلاف مقدمہ عالمی عدالت میں

کانگو میں عسکری تنظیم کانگولیس ملیشیا سے مبینہ وابستگی اور سینکڑوں انسانوں کے قتل کے الزام میں دو وار لورڈز پر دی ہیگ کی عالمی عدالت مقدمے کی سماعت جلد شروع کرنے والی ہے۔

default

بین الاقوامی فوجداری عدالت کے جج ایک کیس کی سماعت کے دوران

گرمین کاتانگا Germain Katanga اور ماتھیو نگوڈیولو چوئی Mathieu Ngudjolo Chui پر الزام ہے کہ انہوں نے سن 2003ء میں ایک مقامی گاؤں پر ہونے والے بلوے کی ہدایات جاری کی تھیں۔ اس حملے میں اس گاؤں میں دو سو افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا تھا گیا۔ دی ہیگ کی عالمی عدالت ان دونوں ملزمان پر عام شہریوں پر حملوں کے احکامات دینے، جنسی تشدد کرنے اور بچوں کو فوجی مقاصد کے لئے استعمال کرنے کے الزامات بھی عائد کئے گئے ہیں۔ دونوں ملزمان نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے ان حملوں کا شکار ہونے والے افراد سے ہمدردی ظاہر کی ہے۔

Niederlande Menschenrechte Germain Katanga vor dem Strafgerichtshof in Den Haag

گرمین کاتانگا پر الزام ہے کہ انہوں نے سن 2003ء میں ایک مقامی گاؤں پر ہونے والے بلوے کی ہدایات جاری کی تھیں

وکیل استغاثہ کے مطابق گرمین کاتانگا اور میتھیو نگودیولو نے فوجی بچوں اور دیگر جنگجوؤں پر مشتمل دو مقامی گروہوں لیندو اور نگیتی کو ساتھ ملا کر 2003ء میں بوگورو نامی گاؤں کو صفحہ ہستی سے مٹانے کے مقصد سے اس پر حملہ کیا تھا۔ اس حملے میں ہلاک ہونے والوں کی زیادہ تر تعداد ہیما نسل باشندوں کی تھی۔ ملزمان پر لگائے گئے الزامات میں کہا گیا ہے کہ اس واقعے میں حملہ آوروں نے مقامی افراد کو بے دریغ قتل کیا اور خواتین کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔

اس حملے سے قبل یہ گاؤں ایک دوسری عسکری تنظیم یونین آف کانگولیس پیٹریاٹس UCP ملیشیا کے حامیوں کے کنٹرول میں تھا۔ وکیل استغاثہ کے مطابق عدالت میں دونوں ملزمان کے خلاف 26 گواہان بھی پیش کئے جائیں گے تاہم سیکیورٹی کے پیش نظر ان افراد کی شناخت ظاہر نہیں کی جائے گی۔ ممکنہ طور پر اس مقدمے کی تکمیل میں کئی ماہ کا عرصہ لگ سکتا ہے۔

Omar Hassan Ahmad al-Bashir Präsident Sudan

انٹرنیشنل کورٹ سوڈانی صدر عمر حسن البشیر کے خلاف وارنٹ گرفتاری جاری کرچکا ہے

سن 1994ء میں ڈیموکرٹیک ریپبلک کانگو میں شروع ہونے والے نسل کشی کے واقعات نے رفتہ رفتہ خطے کے کئی ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔ مبصرین کا خیال ہے کہ اطراف کے باغی گروپوں کے درمیان مسلح تصادم کی وجہ مقامی علاقے اتوری کے قدرتی وسائل خصوصا سونے کی کانوں پر قبضہ جمانا تھا۔

بین الاقوامی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے کانگو، روانڈا اور یوگنڈا کے حکام پر بھی الزام عائد کیا ہے کہ وہ ان پرتشدد واقعات کو ہوا دیتے رہے۔ ہیومن رائٹس واچ نے مطالبہ کیا ہے کہ ان ممالک کے حکام کو بھی تفتیش میں شامل کیا جائے اور ان پر بھی عالمی عدالت میں مقدمہ چلایا جائے۔ یورپی یونین امن مشن کی مداخلت کے بعد اتوری کےعلاقے میں تو امن قائم ہو چکا ہے تاہم ابھی مشرقی کانگو میں ایسے واقعات بدستور سامنے آتے رہتے ہیں۔

واضح رہے کہ دی ہیگ کی عالمی عدالت برائے فوجداری ICC میں کانگو میں انسانی قتل عام اور جنگی جرائم کے حوالے سے یہ دوسرا مقدمہ ہے۔ اس سے قبل سن 2008ء میں باغی تنظیم کانگو ملیشیا کے رہنما تھومس لوبانگا کے خلاف مقدمے کی سماعت شروع کی گئی تھی تاہم قانونی وجوہات کے بنا پر وہ مقدمہ ابھی تک تعطل کا شکار ہے۔

رپورٹ: عاطف توقیر

ادارت: عاطف بلوچ