1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کانگو میں ناروے کے دو شہریوں کے لئے سزائے موت کا فیصلہ

عوامی جمہوریہ کانگو میں ناروے کے دو شہریوں کو موت کی سزا سنا دی گئی ہے۔ عدالت کے مطابق ان پر قتل اور جاسوسی کا الزام ثابت ہوا ہے۔ تاہم ناروے نے اپنے شہریوں کے خلاف تمام الزامات مسترد کر دیے ہیں۔

default

Norwegen Streubomben Konferenz in Oslo Außenminister Jonas Gahr Störe

ناروے کے وزیر خارجہ یوناس گار اسٹوئر

عوامی جمہوریہ کانگو کی ایک فوجی عدالت نے ناروے کے دو شہریوں کو قتل اور جاسوسی کا مرتکب قرار دیا ہے۔ عدالت نے ان کے لئے سزائے موت کا فیصلہ سناتے ہوئے یہ حکم بھی جاری کیا ہے کہ وہ اور ان کی حکومت کانگو کو ہرجانے کے طور پر 60 ملین ڈالر ادا کریں۔

ناروے کے حکام نے اس فیصلے پر فوری رد عمل ظاہر کرتے ہوئے اپنے شہریوں کے خلاف الزامات مسترد کردیے ہیں۔ وزیر خارجہ یوناس گار اسٹوئر نے سزائے موت پر عملدرآمد رکوانے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس مقصد کے لئے تمام ذرائع استعمال کئے جائیں گے۔

خبررساں ادارے روئٹرز کے مطابق کنشاسا میں عدالتی فیصلے کے بعد وہاں موجود ایک نامعلوم اہلکار نے بتایا،'عدالت نے اعلان کیا ہے کہ تمام الزامات ثابت ہو گئے ہیں، فرنچ اور مولاند کے لئے سزائے موت کا حکم دیا گیا۔'

عدالت کا کہنا ہے کہ ہرجانے کی رقم اس ڈرائیور کے اہل خانہ کو دی جائے گی جسے ان دونوں افراد نے قتل کیا تھا۔ پرجوش ہجوم نے عدالتی فیصلے کا خیرمقدم کیا۔

ناروے کے دو شہریوں کے ڈرائیور کو رواں برس مئی کے دوران ملک کے شورش زدہ شمالی علاقے میں کسانغنی شہر کے قریب مردہ پایا گیا تھا، جس کے بعد 27 سالہ یوشوا فرنچ اور 28 سالہ مولاند کے خلاف قتل، جاسوسی اور ہتھیاروں کی اسمگلنگ کا مقدمہ قائم کیا گیا۔ ان پر ناروے کی فوج سے وابستگی کا الزام بھی ہے۔ تاہم انہوں نے خود کو بے قصور قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ناروے کی فوج سے ان کا کوئی تعلق نہیں۔

Joseph Kabila

عوامی جمہوریہ کانگو کے صدر جوزف کابیلا

فوجی عدالت کے چیئرمین کیپٹن کلاؤڈے ڈیسیمو نے ناروے کے ان شہریوں کو کانگو کی سلامتی کے لئے خطرہ قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ فرنچ اور مولاند کے پاس سے شناختی کارڈ برآمد ہوئے ہیں، جن سے ناروے کی فوج کے ساتھ ان کا تعلق ثابت ہوتا ہے۔

اُدھر ناروے کا کہنا ہے کہ وہ دونوں 2007 تک فوج سے وابستہ رہے ہیں۔ وزیرخارجہ اسٹوئر کہتے ہیں کہ ان لوگوں کا ناروے کی حکومت سے کوئی تعلق نہیں اور اگر انہوں نے کچھ کیا بھی ہے تو وہ ان کا ذاتی عمل ہے۔ اسٹوئر کا یہ بھی کہنا ہے کہ ناروے اس حوالے سے تفتیشی عمل کا حصہ نہیں رہا، اس لئے وہ الزامات کی سچائی کے بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتے۔ انہوں نے کہا کہ فرنچ اور مولاند کی سلامتی کی ذمہ داری کنشاسا حکام پر عائد ہوتی ہے۔

کانگو میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے ساتھ عدلیہ پر بدعنوانی اور نااہلی کےا لزامات لگائے جاتے ہیں۔ تاہم صدر جوزف کابیلا نے 2003 سے ہی سزائے موت پر عملدرآمد رکوا دیا تھا۔ کانگو کے ایک سینیٹر لیونارڈ شی اوکیٹونڈو نے بھی سزا پر عمل درآمد کو خارج ازمکاں قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کانگو میں سزائے موت غیرآئینی ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ صدر کابیلا نے اگر رحم کی درخواست مسترد کر دی، تو ہی سزا پر عملدرآمد ہو سکے گا۔

رپورٹ: ندیم گِل

ادارت: افسر اعوان

DW.COM