1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

کانگو میں منظم جنسی زیادتیوں کے واقعات

اقوام متحدہ کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ ڈیموکریٹک ریپبلک کانگو میں باغیوں کی طرف سے بہت سی خواتین کے ساتھ جنسی زیادتیوں کے باعث ان باغیوں کے رہنماؤں کے خلاف پابندیاں لگانے پر غور کیا جائے۔

default

عالمی ادارے کے امن فوج سے متعلق شعبے کے نائب نگران اٹُل کھارے نے کانگو کے بارے میں ایک اجلاس کے دوران پندرہ رکنی سلامتی کونسل کو بتایا کہ کانگو میں 500 سے زائد انسانوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

اٹُل کھارے کے بقول ایسا اسی سال جولائی اور اگست کے مہینوں میں ہوا اور جنسی زیادتیوں کے شکار بننے والے افراد میں کئی بچے بھی شامل ہیں۔

اٹُل کھارے عالمی ادارے کی امن کارروائیوں کے نائب نگران کے طور پر اقوام متحدہ کے اسسٹنٹ سیکریٹری جنرل بھی ہیں۔

Zusätzliche Kongo Truppen möglich

ہُوٹو باغیوں کی تنظیم FDLR کے رہنما ملوث ہو سکتے ہیں

انہوں نے کہا کہ کانگو میں باغیوں کی طرف سے یہ جسمانی اور جنسی زیادتیاں ملک کے مشرقی حصے میں شمالی اور جنوبی Kivu کے صوبوں میں کی گئیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان جنسی جرائم کا ارتکاب کرنے والوں میں کانگو کی حکومت کے مسلح دستوں کے چند ارکان بھی شامل تھے۔

قبل ازیں عالمی ادارے کی طرف سے یہ بھی کہا گیا تھا کہ اس کے کانگو میں تعینات امن دستوں نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اس افریقی ملک میں جولائی کے آخر اور اگست کے شروع میں کئی دنوں تک ایک منظم طریقے سے سینکڑوں خواتین کو جنسی زیادتیوں کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

ڈیموکریٹک ریپبلک کانگو میں مسلح باغیوں کی طرف سے اس طرح کے جرائم کے ارتکاب کی اقوام متحدہ کی جنسی جرائم کی روک تھام کے لئے خصوصی مندوب مارگوٹ والسٹروم نے بھی تصدیق کر دی ہے۔

اٹُل کھارے اور مارگوٹ والسٹروم نے عالمی سلامتی کونسل کو بتایا ہے کہ شدید نوعیت کے ان جنسی جرائم کے محرک افراد میں روانڈا کے ہُوٹو باغیوں کی تنظیم FDLR کے رہنما ملوث ہو سکتے ہیں۔ کانگو کے جن علاقوں میں ان جرائم کا ارتکاب ہوا، وہاں اس سال تیس جولائی سے لے کر تین اگست تک انہی باغیوں کا قبضہ تھا۔

رپورٹ: عصمت جبیں

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس