1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کانگو: تازہ جھڑپیں

اقوام متحدہ کے فوجی ترجمان نے کہا ہے کہ ڈیمو کریٹک ری پبلک کانگو میں ٹوٹسی باغیوں نے تازہ جھڑپوں کے دوران ملک کے شمالی دیہات پر قبضہ کرلیا ہے اور شمالی صوبے Kivu پر کنٹرول بڑھانے کی کوششیں کر رہے ہیں۔

default

متاثرہ علاقوں سے نقل مکانی کرنے والے شہریوں کی تعداد بھی بڑھتی جا رہی ہے

کانگو میں اقوام متحدہ کے امن مشن سے تعلق رکھنے والے لیفٹیننٹ کرنل ژاں پال ڈیٹرش کا کہنا ہے کہ باغیوں نے نیائنزالے اور کیکوکو پر قبضہ کر لیا ہے جس سے باغیوں کے اپنی ہی اعلان کردہ جنگ بندی کا خاتمہ بھی ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ثابت ہوچکا ہے کہ باغی اس خطے کا کوئی نہ کوئی حصہ اپنے کنڑول میں لینے کی کوشش کررہے ہیں۔

باغیوں کی ان کارروائیوں سے علاقے میں پرتشدد وارداتوں میں اضافہ ہورہا ہے جبکہ متاثرہ علاقوں سے نقل مکانی کرنے والے شہریوں کی تعداد بھی بڑھتی جا رہی ہے۔

کرنل ژاں پال نے بتایا کہ اقوام متحدہ کے فوجیوں کے ساتھ انسانی حقوق کے سرکردہ کارکن بھی باغیوں کی جانب سے شہریوں کے قتل کی خبروں سے متعلق رپورٹس کا جائزہ لے رہے ہیں۔

عینی شاہدین کے مطابق شمالی گوما میں بہت زیادہ کشیدگی کے شکار کیوانجا نامی ایک گاؤں سے ہزاروں باشندے خوف زدہ حالت میں متعدد نواحی دیہات میں پناہ لینے پر مجبور ہوگئے ہیں۔

ایک طرف اقوام متحدہ اور افریقی یونین نیروبی میں کانگو کے مسئلے کے حل کے لیے ایک سربراہی اجلاس منعقد کرنے جارہے ہیں تو دوسری طرف امدادی ادارے ڈھائی لاکھ پناہ گزینوں کو خوراک اور دوائیں مہیا کرنے میں مصروف ہیں۔ امدادی تنظیموں کا یہ بھی کہنا ہے کہ مشرقی کانگو کے شورش زدہ علاقوں میں ایک لاکھ سے زائد بے گھر افراد میں سے بیشتر ابھی تک امدادی سامان کے منتظر ہیں۔

اسی دوران جرمن وزیر خارجہ فرانک والٹر شٹائن مائر نے برلن میں کانگو اور روانڈا کی حکومتوں سے اپیل کی کہ انہیں اس مسئلے کے حل کے لئے کل جمعہ کے روز نیروبی میں ہونے والی بحرانی سربراہی کانفرنس میں کوئی قابل عمل تجاویز پیش کرنا چاہئیں۔