1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کانگو بحران، تازہ صورتحال

ڈیمو کریٹک ریپبلک کانگو کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے اولوسے گون اوباسانجو نے کانگو کے صدر جوزف کابیلا پر زور دیا ہے کہ اس افریقی ملک میں قیام امن کے لیے انہیں باغیوں سے مذاکرات کرنا ہوں گے۔

default

نائجیریا کے سابق صدر اوباسانجو کا کہنا ہے کہ جنرل نکونڈا کے مطالبات جائز ہیں۔

نائجیریا کے سابق صدر اوباسانجو کا کہنا ہے کہ جنرل نکونڈا کے مطالبات جائز ہیں۔ اس کے برعکس کانگو حکومت نے باغیوں سے براہ راست مذاکرات کی تجویز مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسا اسی صورت میں ممکن ہے جب مذاکرات گوما میں طے پانے والے مذاکراتی عمل کے دائرہ کار کے اندر رہتے ہوئے کیے جائیں۔

BdT- Kongo Flüchtlinge Kinder Goma

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے کہا ہے کہ کانگو کی لڑائی کے تمام فریقین نے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کی ہیں۔

ادھر جنرل نکونڈا نے زور دیا ہے کہ وہ اور ان کے ساتھی ہتھیار نہیں ڈال رہے بلکہ حکومتی فوج اور انتظامیہ سے ات‍حاد کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ متحد ہونے کا مطلب ہتھیار ڈالنا نہیں، اس کا مطلب ہے آگے بڑھ کر ہاتھ ملانا۔

جنرل نکونڈٓا نے حکومت سے براہ راست مذاکرات، اقلیتیوں کے تحفظ،، باغیوں کی نیشنل آرمی میں شمولیت اور اپنے زیر قبضہ علاقوں کے منتظمین کے حکومتی منتظمین کے ساتھ انضمام کا مطالبہ کیا تھا۔

Flüchtlingsfrauen im Kibati Camp im Kongo

جنرل نکونڈا نے زور دیا ہے کہ وہ اور ان کے ساتھی ہتھیار نہیں ڈال رہے بلکہ حکومتی فوج اور انتظامیہ سے ات‍حاد کر رہے ہیں۔

دوسری جانب اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے کہا ہے کہ کانگو کی لڑائی کے تمام فریقین نے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کی ہیں۔ ان کے مطابق کانگو کی حکومتی فوج اور لاراں نکونڈا کے عسکریت پسند، قتل و غارت، نسل کشی، جنسی زیادتیوں اور پرتشدد کارروائیوں میں ملوث رہے ہیں۔

بان کی مون نے اس حوالے سے سلامتی کونسل کی ایک رپورٹ کا ‍حوالہ دیا جس میں جولائی سے نومبر تک کے عرصے میں کانگو کی صورتحال بیان کی گئی ہے۔

Kongo Flüchtlinge

اب تک متاثرہ علاقوں سے ایک ملین افراد نقل مکانی بھی کرچکے ہیں۔

کانگو کے بارے میں ہیومین رائٹس واچ نامی تنظیم نے بھی ایک رپورٹ جاری کی ہے جس میں 2006 کے انتخابات میں کانگو حکومت پر سیاسی مخالفین کے خلاف تشدد کے استعمال کا الزام لگایا گیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کانگو کی افواج نے اپوزیشن کے خلاف مہم کے دوران دارالحکومت کنشاسا اور مغربی صوبے باس کانگو میں 500 افراد کو ہلاک کیا۔ تاہم جوابا حزب اختلاف کی جماعتیں بھی پرتشدد کارروائیوں میں ملوث رہیںِ۔

داخلی بدامنی کے شکار افریقی ملک کانگو میں جنرل نکونڈا، کانگو کی فوج اور روانڈا کے ہوتو باغیوں کے درمیان گزشتہ پانچ دہائیوں سے نسل در نسل جاری سہ فریقی لڑائی میں اب تک براہ راست یا بالواسطہ طور پر کل 50 لاکھ سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ متعدد افراد آج بھی لقمہ اجل بن رہے ہیں۔ اس کے علاوہ متاثرہ علاقوں سے ایک ملین افراد نقل مکانی بھی کرچکے ہیں۔