1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کامن ویلتھ گیمز کے لئے قریشی کو کرشنا کی دعوت

بھارتی وزیر خارجہ نے اپنے پاکستانی ہم منصب کو کامن ویلتھ گیمز میں شرکت کی دعوت دی ہے۔ ایس ایم کرشنا کا کہنا ہے کہ اس موقع سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے دونوں ممالک کے مابین امن مذاکرات آگے بڑھائے جا سکتے ہیں۔

default

شاہ محمود قریشی کامن ویلتھ گیمز میں مدعو

بھارتی وزیر خارجہ نے اپنے پاکستانی ہم منصب کو کامن ویلتھ گیمز میں شرکت کی دعوت دی ہے۔ ایس ایم کرشنا کا کہنا ہے کہ اس موقع سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے دونوں ممالک کے مابین امن مذاکرات آگے بڑھائے جا سکتے ہیں۔ بھارتی نیوز چینل این ڈی ٹی وی پر نشر ہونے والے بیان میں کرشنا نے کہا، ’ پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو ہم تہہ دل سے مدعو کرتے ہیں کہ وہ اتوار سے شروع ہونے والے دولت مشترکہ کھیلوں کے لئے بھارت آئیں اور کم از کم چند کھیل دیکھیں، اس طرح ہمیں ایک بار پھر مکالمت کو آگے بڑھانے کا موقع مل جائے گا‘۔

Der indische Außenminister S. M. Krishna

کامن ویلتھ گیمز کے موقوع پر پاک بھارت مذاکرات آگے بڑھائے جا سکتے ہیں: بھارتی وزیر خارجہ

جنوبی ایشیا کی دو جوہری طاقتیں، بھارت اور پاکستان ایک عرصے سے دو طرفہ اعتماد سازی اور امن مذاکرات کو بروئے کار لاکر دیرینہ تنازعات کو ختم کرنے کی کو ششیں کر رہی ہیں۔ 2008 میں ممبئی میں ہونے والے دہشت گردانہ حملوں کے بعد، جس میں 166 افراد ہلاک ہوئے تھے ، امن مذاکرات کے عمل کو کافی نقصان پہنچا۔ 2008 کے نومبر میں رونما ہونے والے افسوس ناک واقعات کے ایک طویل عرصے تک پاک بھارت جامع مذاکرات کا سلسلہ بند رہا تاہم دونوں ملکوں کی طرف سے سفارتی سطح پر رہ رہ کر امن کی بحالی کی اہمیت پر بیان اور جوابی بیان کا سلسلہ بدستور جاری رہا۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ کامن ویلتھ گیمز کا انعقاد بھارت کے لئے ایک بڑا چیلنج ہے ۔ ایک طرف تو اُسے دنیا پر یہ ثابت کرنا ہے کہ بھارت ایک تیزی سے ترقی کرتی ہوئی جنوبی ایشیائی قوت ہے جہاں مغربی طاقتیں سرمایہ کاری اور دفاعی تعاون جیسے شعبوں میں بلا جھجک پیش قدمی کر سکتی ہیں، تو دوسری جانب بھارت کو جنوبی ایشیائی خطے میں اپنے اہم کردار کو اجاگر کرنے کے لئے تمام تر کوششیں کرنا ہوں گی کہ وہ اپنے پڑوسی ممالک کے ساتھ نہایت دوستانہ رویہ اختیار کئے ہوئے ہے اور خطے میں امن و استحکام کا خواہاں ہے۔

Indien Commonwealth Games Flash-Galerie

کامن ویلتھ گیمز بھارت کے لئے ایک بڑا چیلنج

گزشتہ چند سالوں کے دوران بھارت میں رونما ہونے والے دہشت گردانہ حملوں کی تعداد دنیا کے دیگر ممالک کے مقابلے میں بہت زیادہ رہی ہے۔ ایک تجزیاتی رپورٹ کے مطابق عسکریت پسندانہ حملوں کا شکار ہونے والے ممالک کی فہرست میں عراق کے بعد بھارت دوسرے نمبر پر ہے۔ تاہم ان تمام حملوں میں سے کوئی ایک بھی اب تک مشکل ترین ہدف پر نہیں کیا گیا۔ 2001 میں مسلح افراد نے بھارتی پارلیمان پر حملہ کیا تھا۔ ابھی ایک ہفتہ قبل نئی دہلی میں موٹر سائیکل سوار مسلح افراد نے سیاحوں کی ایک بس پر اچانک حملہ کیا جس کے نتیجے میں دو تائیوانی باشندے زخمی ہوئے تھے۔ یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ 16 میلن کی آبادی والے اس شہر میں کامن ویلتھ گیمز کے دوران امن عامہ کی صورتحال پر قابو رکھنا سکیورٹی فورسز کے لئے کتنا بڑا چیلنج ہوگا۔

بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ کے بقول ’ بھارت ایک خطرناک اور غیر محفوظ ہمسائے سے جڑا ہوا ہے۔ بھارت کے بازاروں، کیفیز، شاپنگ سنٹرز پر ہونے والے حملے ایسے مشتبہ ملکی دہشت گردوں نے کئے ہیں جو گزشتہ چند سالوں میں پاکستان سے بھارت لوٹے ہیں‘۔

Straßenverkehr Chaos in Indien

نئی دہلی کی سڑکوں پر معمول کا ٹریفک

ایف ٹی آئی انٹر نیشنل رسک لمیٹڈ کے چیئرمین اسٹیون ویکرز نے متنبہ کیا ہے کہ کامن ویلتھ گیمز کے موقع پر ماضی میں نئی دہلی کی پارلیمان پر ہونے والے حملے جیسی دہشت گردانہ کارروائی کو خارج الامکان قرار نہیں دیا جاسکتا۔ اُن کے بقول’ سب سے زیادہ خطرہ ہوٹلوں اور بسوں پر حملوں کا ہے‘۔ ویکرز کے مطابق مُمبئی دہشت گردانہ حملے جیسی کوئی بھی کارروائی بھارت کو اس حد تک مشتعل کر سکتی ہے کہ نئی دہلی جواب میں پاکستان کے خلاف عسکری حملہ کر دے۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں چوٹی کے بھارتی سکیورٹی حکام نے بتایا ہے کہ 2009 میں بیرونی عوامل کی پشت پناہی سے کئے جانے والے 12 دہشت گردانہ حملوں کو ناکام بنا دیا گیا۔ اُدھر نئی دہلی کے ایک تھنک ٹینک ’ انسٹیٹیوٹ فار کونفلکٹ مینیجمنٹ‘ کے سربراہ ’ اجائی ساہنی‘ نے کہا ہے کہ کامن ویلتھ گیمز دہشت گردوں کے لئے ایک پُر کشش مگر مشکل ہدف ہوگا‘۔ ایسے عناصر کی کارروائیوں کا جواب بھارت ماضی میں بھی بہت سختی سے دے چکا ہے۔

رپورٹ: کشور مصطفیٰ

ادارت: افسر اعوان

DW.COM

ویب لنکس