1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

کامن ویلتھ گیمز: بندروں سے بچاؤ، محافظوں میں لنگور بھی

نئی دہلی میں حکام نے کامن ویلتھ گیمز کے دوران ’محافظوں‘ کے طور پر ایسے تربیت یافتہ لنگوروں کو گارڈز کے فرائض سونپنےکا فیصلہ کیا ہے، جو چھوٹی نسل کے بندروں کو کھیلوں کی جگہ سے دور رکھ سکیں گے۔

default

نئی دہلی میں بندروں کے حملوں سے بچاؤ بھی ایک مسئلہ

نئی دہلی سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق انسانوں کو تنگ کرنے والے چھوٹے بندر خاص طور پر لنگور کہلانے والے بڑے بندروں سے خوف کھاتے ہیں۔ اس لئے بھارتی دارالحکومت کی بلدیاتی انتظامیہ نے دولت مشترکہ کھیلوں کے دوران خاص طور پر ہاکی سٹیڈیم اور باکسنگ کے مقابلوں کی جگہ کے نواح میں درجنوں ایسے لنگوروں کو ڈیوٹی پر تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو چھوٹے بندروں کو ان جگہوں سے دور رکھ سکیں گے۔

نئی دہلی میونسپل کونسل نے ان کھیلوں کے مقابلوں کی انعقاد کی جگہ کو شہر کے VIP علاقے قرار دے رکھا ہے۔ شہری انتظامیہ کے پاس ایسے کل 28 تربیت یافتہ لنگور ہیں، جو خاص موقعوں پر چھوٹی نسل کے بندروں کو کسی بھی جگہ سے دور رکھنے کے لئے استعمال میں لائے جاتےہیں۔

Indien Commonwealth Games New Delhi Stadion Flash-Galerie

بھارتی دارالحکومت میں کامن ویلتھ گیمز سے قبل تعمیراتی منصوبے ابھی تک جاری ہیں

لیکن کامن ویلتھ گیمز کے دوران ایسے جو قریب دو درجن ’محافظ‘ لنگور متعین کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، ان میں خاص طور پر ہمسایہ یونین ریاست راجستھان سے نئی دہلی لائے گئے ایسے کم ازکم دس لنگور بھی شامل ہوں گے۔ حکام نے اس کی وجہ یہ بتائی ہے کہ ایسے سارے ہی ’محافظ‘ لنگوروں کو نگرانی کی ذمہ داری نہیں سونپی جائے گی بلکہ ان میں سے کئی ’ریزرو‘ کے طور پر بھی متعلقہ علاقوں میں رکھے جائیں گے۔

نئی دہلی میں بندروں کے انسانوں پر حملے کوئی غیر معمولی بات نہیں ہیں۔ بھارتی دارالحکومت میں آوارہ پھرنے والے ایسے بندر جگہ جگہ نظر آتے ہیں۔

نئی دہلی میں ہر سال بندروں کے انسانوں پر حملوں کے سینکڑوں واقعات رپورٹ ہوتے ہیں، جن میں ان جانوروں کے کاٹنے سے بھی ہر سال بہت سے شہری زخمی ہو جاتے ہیں۔

سن 2007 میں تو نئی دہلی کے ایک ڈپٹی میئر بندروں کے ایسے ہی ایک حملے میں ہلاک ہو گئے تھے۔ وہ صبح کے وقت اپنے گھر کی بالکونی میں بیٹھے اخبار پڑھ رہے تھےکہ بہت مشتعل بندروں کے ایک گروپ نے ان پر حملہ کر دیا تھا۔

رپورٹ: عصمت جبیں

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس